سری نگر، 28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں ہڑتال اور مواصلاتی پابندی چہارشنبہ کے روز مسلسل 24 ویں دن بھی جاری رہی۔ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ سرکاری دفاتر، بنکوں اور ڈاک خانوں میں معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہے ۔ ریل خدمات بھی بدستور معطل ہیں۔ چہارشنبہ کے روز بھی سری نگر اور وادی کے دیگر نو اضلاع میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ تاہم سری نگر کے سول لائنز و بالائی شہر اور مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر اچھی خاصی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ آٹو رکھشا بھی سڑکوں پر چلنے لگے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وادی کی صورتحال تیزی سے بہتری کی جانب گامزن اور پابندیاں ہٹانے ، مواصلاتی خدمات بحال کرنے اور تعلیمی ادارے کھولنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم اس کے برعکس سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ ان میں سے کچھ درجن گاڑیوں کو سول سکریٹریٹ ملازمین کو لانے اور لے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ ایس آر ٹی سی کی کوئی بھی گاڑی عام شہریوں کے لئے دستیاب نہیں ہے ۔
کشمیر میں جاری ہڑتال کے بیچ کرکٹ کھیلنا اور
ٹی وی دیکھنا وقت گذاری کا اہم ذریعہ
سری نگر۔ 28 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ماہ رواں کی 5 تاریخ سے جاری صورتحال کے بیچ وادی کشمیر میں گلیوں میں کرکٹ کھیلنا وقت گذاری کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے وہیں پیر وجوان کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کو دکانوں کے تھڑوں اور برلب سڑک چھوٹی پارکوں میں موجودہ حالات پر گرما گرم بحث و مباحثوں میں بھی مشغول دیکھا جارہا ہے ۔تمام تر تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہنے کے باعث لوگ بالخصوص تجارت پیشہ لوگ جن کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ بمشکل ہی کھل کر بات کرنے کا وقت ملتا تھا آج کل اپنے احباب و اقارب کے ساتھ روزانہ بنیادوں پر ملاقی ہوجاتے ہیں بلکہ دن بھر ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔