کل ہند داغ دہلوی فاؤنڈیشن حیدرآباد کا شاندار عالمی مشاعرہ

   

داغ کے افکار کو عام کرنے اکیڈیمی کے قیام کا دانشوروں کا حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد ۔ 3 مارچ (پریس نوٹ) کل ہند داغ دہلوی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے زیراہتمام حیدرآباد کے رویندرا بھارتی آڈیٹوریم میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ عالمی مشاعرہ میں ہندوستان کے شعراء کے ساتھ دبئی، جدہ، کویت اور قطر کے شعراء نے شرکت کی۔ مشاعرہ کا افتتاح تلنگانہ کے وزیرداخلہ محمد محمود علی نے شمع روشن کرکے کیا جبکہ صدارت پروفیسر ایس اے شکور نے کی۔ اس موقع پر جناب محمد محمود علی نے عالمی مشاعرہ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا وہیں انہوں نے کل ہند داغ دہلوی فاؤنڈیشن کے بانی سید مسکین احمد کی کاوشوں کی ستائش بھی کی۔ وزیرداخلہ نے اس موقع پر کمیٹی اور شعراء کے مطالبہ پر حیدرآباد میں داغ دہلوی کے نام سے آڈیٹوریم قائم کرنے کے مطالبہ پر وزیراعلیٰ سے بات کرنے اور آڈیٹوریم قائم کرنے کا یقین دلایا۔ مشاعرہ میں داغ دہلوی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے بانی سید مسکین احمد نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور داغ دہلوی کے افکار و نظریات کو عالمی سطح پر پہنچانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ مشاعرہ میں شعراء نے حب الوطنی اور انسانی اقدر و محبت پر مبنی جب کلام پیش کیا تو سامعین واہ واہ کر اٹھے۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی بھوپال، کنور جاوید راجستھان، سردار سلیم حیدرآباد، ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی، نازنین علی ناز کویت، سمیرہ عزیز، ڈاکٹر مہتاب عالم بھوپال، جدہ، کوکب ذکی، انجنی کمار گوئل، شریف اطہر، لطیف الدین لطیف (طنز و مزاح)، سمیع صدیقی، افضال دانش برانپور، لکشمن شرما واحد ممبئی نے اپنا بہترین کلام پیش کرکے سامعین سے داد و تحسین حاصل کی۔ عالمی مشاعرہ کی نظامت کے فرائض منفرد لب و لہجہ کے شاعر و عالمی شہرت یافتہ ناظم ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنے منفرد انداز میں انجام دیکر مشاعرہ کے حسن کو دوبالا کیا۔ داغ تقاریب کے ضمن میں عالمی مشاعرہ کے علاوہ بیت بازی اور طرحی غزل مقابلہ رکھا گیا تھا جس میں سے ججس نے انجنی کمار گوئل کی غزل کو بہترین غزل قرار دی گئی جس پر انہیں یادگار مومنٹو، انعامی رقم کے ساتھ شال پوشی و گلپوشی بھی کی گئی۔ مشاعرہ کی خاص بات یہ تھی کہ مشاعرہ میں شامل شعراء نے اپنے اپنے علاقہ میں داغ کے افکار و نظریات پر جہاں پروگرام کے انعقاد کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا وہیں داغ دہلوی فاؤنڈیشن کے ذمہ داران نے داغ کے افکار کو لیکر تسلسل کے ساتھ پروگرام کے انعقاد کا اعلان کیا۔ پروگرام کے اختتام پر طنز و مزاح کے شاعر لطیف الدین لطیف نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔