کمسن لڑکیوں سے شادی کرنے پر ہزاروں مرد گرفتار

   

گوہاٹی : آسام میں بی جے پی حکومت نے کم عمری میں غیر قانونی شادیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ پولیس نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں دو ہزار سے زائد مردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ آسام حکومت نے ریاست میں ہونے والی کم عمری کی شادیوں اور زچہ و بچہ کی اونچی شرح اموات پر قابو پانے کیلئے ایک مہم چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے پولیس نے ریاست گیر وسیع پیمانے پر مہم شروع کر دی ہے۔ جمعہ کے روز شروع ہوئی یہ مہم فی الحال دو ہفتہ جاری رہے گی۔ آسام کے ڈائرکٹر جنرل پولیس جی پی سنگھ نے بتایا کہ مہم کے پہلے روز 2044 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں مسجدوں کے امام اور مندروں کے پجاریوں کے علاوہ بچوں کی شادیاں کرانے میں مدد کرنے والے 52 افراد شامل ہیں۔ سنگھ کا کہنا تھا کہ آسام میں 12 برس تک کی عمر کی بچیاں بھی مردوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے 4074 کیسز پولیس کے علم میں آئے ہیں اور ان کی تفتیش کی جا رہی ہے۔