کملاہیریس اور ٹرمپ کا مباحثہ باہمی الزامات کی نذر

   

واشنگٹن : امریکی ریپبلکن صدارتی امیدوارڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیریس پہلے صدارتی مباحثے میں آمنے سامنے آگئے۔صدارتی مباحثے کا آغاز کرتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ میں نے ہمیشہ متوسط طبقے کی بہتری کیلئے آواز اٹھائی ہے، میرے پاس معیشت سے متعلق پریشان امریکیوں کی مددکا پلان ہے۔کملاہیریس کا کہنا تھا کہ امریکی چاہتے ہیں کہ ملک کومتحدکرنے کی ضرورت ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے دورمیں واپس نہیں جاناچاہتے، ٹرمپ کے دور میں ہرطرف افراتفری تھی۔کملا ہیریس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاس کوئی پلان نہیں ہے،امریکی افرادی قوت کی حوصلہ افزائی کیلیے ہم نے کام کیا ہم نے ٹرمپ کے دور میں پھیلائے گئے گندکوصاف کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے امریکیوں کو بدترین بیروزگاری سے دوچار کیا ، ٹرمپ کو 81 ملین لوگوں نے مستردکردیا، ٹرمپ کو اس عمل سے گزرتے ہوئے مشکل حالات پیش آئے۔کملاہیریس نے کہا کہ ایسے شخص کو صدر بنانے کے متحمل نہیں ہوسکتے جو ووٹرز کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے، ٹرمپ ماضی میں یہ کوشش کر چکے ہیں۔کملا ہیریس نے کہاکہ 7 اکتوبر2023 کواسرائیل پرحملہ ہواجس کے دفاع کا اسرائیل کو پوراحق ہے، دنیا کواسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کی جانب جاناچاہیے۔سابق صدر اور ریپلکن صدارتی امیدوار ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ چندسال میں امریکیوں کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا، میرے دور میں متوسط طبقہ خوشحال تھا، بائیڈن اورکملا نے ملک کوتباہ کیا، میرے دورحکومت میں افراط زرنہیں تھا،ان کے دورمیں افراط زرسب سے زیادہ ہے۔