کورونا ٹیکہ سے خاتون ہیلت ورکر کی طبیعت بگڑ گئی

   

دو دن میں 36 افراد میں ری ایکشن ، حالت مستحکم
حیدرآباد۔کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی سے ری ایکشن کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں ایک ہیلت ورکر کو طبیعت بگڑنے پر گاندھی ہاسپٹل میں شریک کردیا گیا۔ 29 سالہ خاتون ہیلت ورکر کو اوپل میں ٹیکہ دیا گیا تھا جس کے بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے شدید ری ایکشن ہوا ہے۔ تلنگانہ میں کورونا ٹیکہ اندازی سے شدید ری ایکشن کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اتوار اور پیر کے درمیان جملہ 36 ری ایکشن کے واقعات کی نشاندہی کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ری ایکشن کے واقعات معمولی نوعیت کے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل ڈاکٹر راجہ راؤ نے بتایا کہ خاتون ہیلت ورکر کی صحت پر نظر رکھی جارہی ہے۔ خاتون نے قئے، کمزوری اور نقاہت کی شکایت کی تھی۔ ڈاکٹرس کے مطابق ٹمپریچر ، پلس اور بلڈ پریشر نارمل ریکارڈ کیا گیا ۔ خاتون کی صحت مستحکم ہے اور علاج کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔ گذشتہ دو دنوں کے دوران عہدیداروں نے ٹیکہ اندازی کیلئے جو نشانہ مقرر کیا تھا اس کے مطابق ہیلت ورکرس ٹیکہ لینے نہیں پہنچے۔ ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں عوام میں کئی اندیشے پائے جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہیلت ورکرس کے رشتہ دار انہیں ٹیکہ لینے سے منع کررہے ہیں۔