کونڈا سریکھا اور چنا ریڈی کے خلاف کارروائی کا 3 ستمبر کو نئی دہلی میں فیصلہ

   

کے سی وینو گوپال سے ریونت ریڈی اور دیگر قائدین کی ملاقات طے، کابینہ میں توسیع اور تبدیلی پر بھی فیصلہ کا امکان
حیدرآباد۔ 30 اگست (سیاست نیوز) کانگریس ہائی کمان نے چیف منسٹر ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کو 3 ستمبر کو نئی دہلی طلب کیا ہے۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی تنظیمی امور کے سی وینوگوپال نے ریاستی وزیر کونڈا سریکھا اور سابق وزیر باپو چنا ریڈی کے خلاف تادیبی کارروائی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے قائدین کو دہلی طلب کیا ہے۔ اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن بھی ملاقات میں شامل رہیں گی۔ واضح رہے کہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تادیبی کارروائی کمیٹی میں کونڈا سریکھا اور چنا ریڈی کے خلاف کارروائی کرکے موجودہ عہدوں سے برطرف کرنے کی سفارش کی ہے۔ کونڈا سریکھا کی دختر کونڈا سشمتا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف سنگین ریمارکس کئے جبکہ چناریڈی نے ٹکٹ الاٹمنٹ کے مسئلہ پر ہائی کمان کو نشانہ بنایا۔ کے سی وینو گوپال بیرونی دورہ سے 2 ستمبر کو واپس ہوں گے اور 3 ستمبر کو تلنگانہ قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تادیبی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کونڈا سریکھا کو کابینہ سے استعفی دینے کی ہدایت دی جائے گی اور استعفی نہ دینے کی صورت میں کابینہ سے برطرف کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر چنا ریڈی کو نائب صدر نشین تلنگانہ پلاننگ بورڈ کے عہدہ سے برطرف کئے جانے کا امکان ہے۔ تادیبی کارروائی کمیٹی کی سفارشات کو منظوری کے لئے ہائی کمان روانہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور بھٹی وکرامارکا نے دونوں قائدین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تاکہ تلنگانہ میں ڈسپلن شکنی پر قابو پایا جاسکے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ کے سی وینو گوپال سے ملاقات کے دوران تلنگانہ کابینہ میں توسیع اور تبدیلی پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ توقع ہے کہ ہائی کمان سے منظوری حاصل کرتے ہوئے دو مخلوعہ وزارتی نشستوں کو پر کرنے کے علاوہ بعض موجودہ وزراء کو تبدیل کیا جائے گا۔ اسمبلی ارکان کی تعداد کے اعتبار سے 18 رکنی وزارت تشکیل دی جاسکتی ہے اور موجودہ کابینہ میں چیف منسٹر کے بشمول 16 وزراء ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کارکردگی کی بنیاد پر بعض وزراء کی تبدیلی اور بعض وزراء کے قلمندانوں کو بدلنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تلنگانہ اسمبلی کا اجلاس 7 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے اور ہائی کمان سے منظوری کی صورت میں اسمبلی اجلاس سے قبل ہی کابینہ میں توسیع یا تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ اگر فیصلے میں تاخیر ہو تو ستمبر کے تیسرے ہفتہ میں توسیع یقینی بتائی جارہی ہے۔ کابینہ میں شمولیت کے اہم دعویداروں میں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور اسپیکر اسمبلی پرساد کمار شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ دلت قائد پرساد کمار اسپیکر اسمبلی کے عہدہ پر برقرار رہیں۔ منگوڑ کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی کی کابینہ میں شمولیت کو یقینی بتایا جارہا ہے کیونکہ راہول گاندھی نے لوک سبھا انتخابات سے قبل ان سے کابینہ کا وعدہ کیا تھا۔ بھونگیر لوک سبھا نشست پر کانگریس امیدوار کو کامیاب بنانے کی صورت میں وزارت کی پیشکش کی گئی تھی۔ چیف منسٹر کے 3 ستمبر کو امکانی دورہ دہلی کے پس منظر میں وزارت میں شمولیت کے خواہشمندوں نے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کی سفارش حاصل کرنے کئی ارکان اسمبلی ملاقات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ موجودہ وزراء میں تبدیلی کے اندیشوں پر بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ کے سی وینو گوپال سے ملاقات کے دوران تلنگانہ میں نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔ 1؍F