حیدرآباد۔/15 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے 80 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا ہے اور پبلک سرویس کمیشن سے گروپ I جائیدادوں کیلئے اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ حکومت نے دستوری گنجائش کے تحت امیدواروں کو اردو زبان میں امتحان لکھنے کی سہولت فراہم کی ہے لیکن اردو زبان میں نصابی میٹریل آج تک تیار نہیں ہوا ہے۔ مختلف محکمہ جات کی جانب سے ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کیلئے گروپ I امتحانات کی کوچنگ کا آغاز کردیا گیا ہے اور متعلقہ محکمہ جات تلگو اور انگلش میں میٹریل فراہم کررہے ہیں۔ دونوں زبانوں میں فیکلٹیز کا انتخاب کرتے ہوئے ایس سی، ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کیلئے کوچنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے جاریہ ماہ کے پہلے ہفتہ میں ریاست کے 10 سابقہ اضلاع میں گروپ I ، II اور III کیلئے مشترکہ کوچنگ کا آغاز کیا ہے لیکن ابھی تک امیدواروں کو اردو میں نصابی میٹریل سربراہ نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے ابھی تک اردو میں نصاب کی تیاری کا کام شروع نہیں کیا ہے۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹیز کے اردو ڈپارٹمنٹس سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امیدواروں کیلئے ایک اور دشواری یہ ہے کہ محکمہ نے گروپ I کے ساتھ گروپ II اور III کی کوچنگ کا آغاز کیا ہے حالانکہ ان تینوں کیلئے علحدہ نصاب ہوتا ہے اور ایک ہی فیکلٹی کے ذریعہ تین علحدہ گروپس کے امیدواروں کیلئے کوچنگ فراہم کرنا آسان نہیں ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صرف ضابطہ کی تکمیل کیلئے کوچنگ کا آغاز کردیا ہے جبکہ اردو میٹریل کی کمی کے نتیجہ میں اقلیتی امیدواروں کے نتائج متاثر ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اردو میڈیم میٹریل کی تیاری میں مزید تاخیر اقلیتی امیدواروں اور خاص طور پر اردو میں امتحان لکھنے کے خواہاں امیدواروں کی تیاری متاثر ہوگی۔ گروپ I کے لئے آن لائن رجسٹریشن کی گنجائش جاریہ ماہ کے اختتام تک ہے اور ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کے ہزاروں طلبہ کوچنگ حاصل کررہے ہیں جبکہ اقلیتی بہبود کی کوچنگ میں امیدواروں کی تعداد مایوس کن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکلٹیز بیک وقت انگلش اور اردو میں کوچنگ فراہم کرنے میں دشواری محسوس کررہے ہیں۔ اردو میں امتحانات کا انعقاد اقلیتی امیدواروں کیلئے سنہری موقع ثابت ہوسکتا ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ گروپ I امیدواروں کیلئے اردو میں نصابی میٹریل نہ صرف تیار کیا جائے بلکہ اردو کے ماہر فیکلٹیز کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کوچنگ فراہم کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوائے حیدرآباد کے اضلاع میں کوچنگ کیلئے امیدواروں کی تعداد مایوس کن ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے ہر ضلع کیلئے 100 امیدواروں کا اعلان کیا تھا لیکن کئی اضلاع میں تعداد 20 اور 30 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو پھر اقلیتی امیدواروں کے نتائج کا مایوس کن رہنا کوئی عجب نہیں ہوگا۔ اقلیتی بہبود کے وزیر اور محکمہ کے عہدیداروں کو اردو میں امتحانات کے انعقاد اور امیدواروں کو موثر کوچنگ فراہم کرنے میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔ر