حکومت کی ہدایت پر حمڈا کی قانونی کارروائیوں کا آغاز
حیدرآباد۔18جولائی(سیاست نیوز) کوکا پیٹ میں موجود سینکڑوں کروڑ مالیت کی اراضیات جو کہ خصوصی معاشی زون میں شامل کرتے ہوئے انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے انہیں واپس حاصل کرنے کی قانونی کاروائیوں کا حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے آغاز کردیاہے۔ کوکا پیٹ Neopolis وینچر میں مختلف انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کو حوالہ کی گئی اراضیات جن پر ترقیاتی کاموں کا آغاز نہیں ہوپایا ہے انہیں واپس حاصل کرنے کے سلسلہ میں HMDA کے اقدامات کے متعلق کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت کی ہدایت پر حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے واپس حاصل کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔بتایا جاتاہے کہ 25 سال قبل جن کمپنیوں کو 90 ایکڑ اراضی حوالہ کی گئی تھی ان کمپنیوں اور اراضی کی نشاندہی کے بعد HMDAکے عہدیداروں نے کمپنی کے ذمہ داروں اور عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وہ جائیدادیں واپس حاصل کرنے کی پیشرفت شروع کرچکی ہیں۔ذرائع کے مطابق حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے پاس حوالہ کی گئی اراضیات جو کہ لیز پر دی گئی تھیں ان کی لیز کو کالعدم قرار دینے کا حق حاصل ہے ۔ کمپنیوں کی جانب سے اگر دی گئی اراضیات پر ترقیاتی کام شروع نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں HMDA کو اس بات استحقاق حاصل ہے کہ وہ دی گئی اراضی کی لیز کو ختم کردے ۔ عہدیداروں کا کہناہے کہ کوکا پیٹ کے علاقہ میں اراضیات کے ہراج میں حاصل ہونے والی رقومات اور اراضیات کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے بعد حکومت نے 90 ایکڑ اراضی کو واپس حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے کیونکہ گذشتہ چند ماہ کے دوران کوکا پیٹ میں کئے گئے ہراج کے دوران 136کروڑ 50 لاکھ روپئے ایکڑ اراضی فروخت کی گئی تھی جب کہ ہراج کے دوران حکومت نے بنیادی قیمت 99 کروڑ روپئے رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور اسی طرح جن پلاٹس کی بنیادی قیمت 70 کروڑ روپئے مقرر کی گئی تھی وہ پلاٹس 77کروڑ میں فروخت ہوئے اسی لئے حکومت نے کوکا پیٹ میں موجود مخلوعہ اراضیات کو حاصل کرتے ہوئے HMDA کے ذریعہ ان کے ہراج کی منصوبہ بندی کی ہے اور کہا جار ہاہے کہ مذکورہ 90 ایکڑ اراضی کے 150 کروڑ روپئے فی ایکڑ کے اعتبار سے ہراج کی صورت میں ریاستی حکومت 10 ہزار کروڑ روپئے کے حصول کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ریاست بالخصوص شہرحیدرآباد کے نواحی علاقوں میں معلنہ پراجکٹس کے علاوہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے اراضیات کی فروخت کے ذریعہ سرمایہ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔3