کوہیڈافروٹ مارکٹ اراضی کا تنازعہ ،حکومت پر ہریش راؤکا الزام

   

200 ایکڑ اراضی خانگی افراد کو دینے کی سازش، احتجاجی مہم شروع کرنے کا انتباہ
حیدرآباد :6 اپریل( سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کوہیڈامیں فروٹ مارکٹ کیلئے مختص 200ایکڑ اراضی کو مبینہ طور پر خانگی افراد کے حوالے کرنے کی سازش کررہی ہے ۔ آج کوہیڈافروٹ مارکٹ کی اراضی کے تحفظ کیلئے ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ضلع رنگاریڈی بی آر ایس کے صدر منچی ریڈی کشن ریڈی نے کی ۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ہریش راؤ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کی بی آر ایس حکومت نے کوہیڈامیں بین الاقوامی معیار کی فروٹ مارکٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جس میں ٹریفک مسائل کے حل ، آلودگی پرقابو ، کسانوں کی فلاح و بہبود ، جدید کولڈ اسٹوریج اور پیکنگ سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی حکمت عملی تیار کی تھی ۔ اس منصوبہ کیلئے کاشتکاروں کو تقریباً 10کروڑ روپئے کا معاوضہ دیا گیا ۔ مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے اکاؤنٹ میں 350 کروڑ روپئے جمع کئے گئے اور تقریباً 1000 کروڑ روپئے کے جامع منصوبہ (DPR) کی تیاری کی گئی ۔ ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت جس کی قیادت ریونت ریڈی کررہے ہیں اس قیمتی اراضی کو پہلے ٹی جی آئی آئی سی کے حوالے کر کے بعد میں خانگی افراد کو منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ فروٹ مارکٹ کی تعمیر کیلئے فوری ٹنڈرس جاری کرتی مگر اس کے بجائے گول مول طریقہ سے زمین کی منتقلی کی جارہی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ ہائیکورٹ نے پہلے حکم دیا ہے کہ متنازعہ اراضی کسی تیسرے فریق کو الاٹ نہ کی جائے ۔ اس کے باوجود حکومت اس سمت پیشرفت کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو دلالوں یا تاجروں کیلئے نہیں بلکہ لاکھوںکسانوں کے مفاد میں کام کرنا چاہیئے ۔ اگر کوہیڈامیں بین الاقوامی فروٹ مارکٹ قائم ہوتی ہے تو ہزاروں کسانوں کو براہ راست فائدہ ہوگا ، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے ، ریاست کی معیشت کو فروغ ملے گا ۔ 2/S/i