کوہ امام ضامنؒ و دیگر وقف اراضیات کے مقدمات

   

موثر پیروی کو یقینی بنانے صدر نشین وقف بورڈ کی ہدایت
حیدرآباد۔8۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے وکلاء نے کونگرا خرد اور کوہ امام ضامن کی اراضیات کے معاملہ میں جاری مقدمہ میں وقت حاصل کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کے لئے وقت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں جاری انتہائی قیمتی اراضیات کے مقدمات میں تلنگانہ وقف بورڈ کی عدم پیروی کی شکایات کے دوران صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے بورڈ کے شعبہ قانون کو متحر ک کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے کوہ امام ضامنؒ کے علاوہ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ میں مؤثر پیروی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ اگر وقف بورڈ کے کسی بھی عہدیدارکی جانب سے اسٹینڈنگ کونسل اور بورڈ کے وکلاء کو مواد فراہم کرنے یا عدالتوں میں جواب داخل کرنے میں کوتاہی کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں سخت کاروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا بلکہ اوقافی جائیدادوں کو سازش کے تحت تباہ کرنے والے عہدیداروں کو منظر عام پر لاتے ہوئے ان سے موقوفہ جائیدادوں کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کردی جائیں گی۔صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کے سلسلہ میں وقف بورڈ پر جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اس کے لئے بورڈ ذمہ دار نہیں ہے بلکہ بورڈ اپنے طور پر ممکنہ حد تک تمام جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کوشش کر رہا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ ملکا جگری کی موقوفہ جائیدادوں‘ جامعہ نظامیہ ‘ درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی ؒ ‘ درگاہ حضرت سید مخدوم شاہ بیابانی ؒ کے علاوہ دیگر اراضیات جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر دوراں ہیں ان کے متعلق تلنگانہ وقف بورڈ جامع رپورٹ تیار کئے ہوئے ہے اور جلد ہی اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے ان جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ آج تلنگانہ ہائی کورٹ میں جو مقدمات تھے ان مقدمات میں بورڈ کی جانب سے وکلاء کو پیروی کی ہدایت نہ دیئے جانے کے متعلق شکایات موصول ہونے کے معاملہ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ان کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے وکلاء کو مؤثر پیروی کے ذریعہ عدالت سے وقت حاصل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ ریاستی حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنے عہد کی پابندہے اور جلد ہی جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے معاملہ میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا علاوہ ازیں درگاہ حضرت مخدوم شاہ بیابانی ؒ کے تحت موجودوقف جائیدادوں کو ’قانون حق حصول اراضی ‘ کے تحت حاصل کرنے کے لئے موصول ہونے والے مکتوب کے متعلق بھی محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے بات چیت کرنے کے علاوہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین کی ہدایت کا انتظار کیا جا رہاہے تاکہ اس معاملہ میں حکومت سے موصول ہونے والی ہدایت کے مطابق عمل کیا جاسکے۔ جناب سید عظمت اللہ حسینی بتایا کہ کوہ امام ضامنؒ کی اراضی کے علاوہ درگاہ حضرت سید شاہ راجو قتال حسینی ؒ کی اراضی کے معاملہ میں عدالت میں موجود مقدمات میں مؤثر پیروی کرواتے ہوئے ان میں کامیابی کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔3