کویتا کی کے ٹی آر پر سخت تنقید ، پدیاترا کو سیاسی مجبوری قرار دیا

   

ہریش راؤ بی آر ایس میں گروپ بندی کا سازشی ہونے کا دعویٰ کیا
حیدرآباد 17 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ جاگروتی کی سربراہ سابق ایم ایل سی کے کویتا نے اپنے حقیقی بھائی بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور رشتہ دار ہریش راؤ کو پھر ایک بار سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر کی جانب سے پدیاترا شروع کرنے کے اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی مجبوری قرار دیا۔ تلنگانہ جاگرتی کے آفس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کویتا نے کہاکہ کے ٹی آر 10 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام سے دور رہے۔ یہاں تک کہ پارٹی کے ارکان اسمبلی اور اہم قائدین سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اب اچانک عوام سے ہمدردی جتانے پدیاترا کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ کویتا نے چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ یہ پدیاترا عوام سے محبت یا اُن کے مسائل سے ہمدردی کے لئے نہیں بلکہ اقتدار کھونے کے بعد کی بے چینی کا نتیجہ ہے۔ تلنگانہ جاگروتی کی سربراہ نے ہریش راؤ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ان کی سیاست ایک سازش کا حصہ ہے اور وہ ان پر کبھی بھروسہ نہیں کریں گی۔ انھوں نے پارٹی کے اندر گروپ بندی کو فروغ دیا ہے۔ چند سابق ارکان اسمبلی نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی کے اندر کی سازش سے انھیں واقف کرایا ہے۔ تاہم وہ فی الوقت ان کے نام بتانا نہیں چاہتیں۔ کویتا نے اپنے سیاسی مستقبل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ انھوں نے عوامی مسائل پر ابتداء میں بی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے باعث انھیں پارٹی سے معطل کیا گیا ہے۔ تاہم اب وہ ریاست میں موجود مسائل کو حل کرنے حکمراں جماعت کو جوابدہ ٹھہرانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد تلنگانہ میں اقتدار کو ایک ہی پارٹی یا خاندان تک محدود رکھنے کے بجائے تمام طبقات کو مساوی نمائندگی دلانا چاہتی ہیں۔ اسی کیلئے نئی سیاسی پارٹی تشکیل دے رہی ہیں ۔ 2/V