کڈیم سری ہری فوری اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں : ہریش راؤ

   

پارٹی کیڈر کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی گئی ، ورنگل کے عوام انہیں سبق سکھائیں گے
حیدرآباد ۔ یکم ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر قائد سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس میں شامل ہونے والے بی آر ایس کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری کو اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ۔ وہ یا ان کی دختر حلقہ لوک سبھا ورنگل سے مقابلہ کرتے ہیں تو انہیں شکست دیتے ہوئے سبق سکھانے کا اعلان کیا ۔ بی آر ایس ورنگل پارٹی کے توسیعی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کڈیم سری ہری کے بی آر ایس چھوڑنے کے بعد پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے ۔ اسمبلی حلقہ اسٹیشن گھن پور کے ضمنی انتخابات میں کڈیم کو شکست دینے کے لیے پارٹی کا ہر کارکن تیاری کررہا ہے ۔ کڈیم سری ہری نے اپنی دختر کے لیے ورنگل لوک سبھا کا ٹکٹ حاصل کیا ۔ پارٹی کے تمام قائدین کے ساتھ اجلاس طلب کیا لمحہ آخر میں پارٹی تبدیل کردی ۔ ایسے دھوکہ بازوں کو سبق سکھانا ضروری ہے ۔ کڈیم سری ہری بہت بڑی سازش کے تحت پارٹی تبدیل کرتے ہوئے کارکنوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی ہے ۔ جن کارکنوں نے انہیں کامیاب بنایا ہے ۔ ان کی توہین کی گئی ہے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی نے کڈیم سری ہری کے لیے کچھ کم نہیں کیا ہے ۔ انہیں ڈپٹی چیف منسٹر ، ایم ایل اے ، ایم ایل سی ، ایم پی کی حیثیت سے تمام مواقع فراہم کئے وہ زندگی بھر بی آر ایس پارٹی کے احسان مند رہنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے پارٹی کے کئی اجلاسوں سے کہا تھا کہ وہ سیاست سے دستبردار ہوجائیں گے مگر کبھی بی آر ایس سے علحدہ نہیں ہوں گے ۔ اب پارٹی کی تبدیلی پر کڈیم سری ہری کیا ردعمل دیں گے ۔ اگر ابھی بھی اخلاق باقی ہیں تو فوری اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کئی مرتبہ کڈیم سری ہری نے ریونت ریڈی کو چور قرار دیا ۔ آج وہی چور کے ہاتھوں کانگریس کا کھنڈوا پہن کر کانگریس میں شامل ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی جب کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ ان کے ساتھ 10 لوگ نہیں تھے پروفیسر جئے شنکر کے آشیرواد سے تحریک کا آغاز کیا گیا اور علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی ۔ کے سی آر کی قیادت میں بی آر ایس دوبارہ اقتدار حاصل کرے گی ۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو کانگریس حکومت کسی بھی ریاست میں پانچ سالہ میعاد سے زیادہ اقتدار میں نہیں رہی ۔ چھتیس گڑھ ، راجستھان اس کا زندہ ثبوت ہیں ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس حکومت پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔۔ 2