اربوں روپئے مالیتی اوقافی املاک تباہ ، 12فیصد تحفظات پر حکومت کی عدم توجہ لمحہ فکر : مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی
حیدرآباد۔/27 اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ مسلمانوں کی ٹوپی پہن کر انہیں ٹوپی پہنانا چاہتی ہے۔ افطار کی دعوت اور رمضان تحائف پر مسلمانوں کی ترقی کو محدود کردیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین نے کیا۔ چیف منسٹر کی دعوت افطار اوررمضان تحائف کا عملاً بائیکاٹ کرنے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک ماہ سے مہم چلارہی ہے۔ سلیم پاشاہ، محمد عباس و دیگر نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس افطار پارٹی سے دور رہیں اور اپنے احتجاج کو درج کروائیں۔ چونکہ ایک دن کی افطار پارٹی اور تحائف ہماری پریشانیوں کا حل نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر تنقید کرتے ہوئے ان قائدین نے کہا کہ گزشتہ 8 سال کے عرصہ میں کے سی آر نے صرف مسلمانوں کا استحصال کیا ہے۔ اقلیتوں کی ترقی کے بلند بانگ دعوے کرنے والے کے سی آر نے سدھیر کمیشن کی سفارش کو نہیں مانا اور نہ ہی 12 فیصد مسلم تحفظات کے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔ ایک طرف اربوں روپئے مالیتی اوقافی املاک تباہ ہورہی ہیں جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ناجائز قابضین کو مبینہ سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ان قائدین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی کا کل بجٹ 2,56,955 کروڑ ہے جبکہ اقلیتی بجٹ 1740 کروڑ ہے جو اس بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ وقف بورڈ کو نہ ہی جوڈیشیل اختیارات دیئے گئے نہ ہی نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو کوئی نمائندگی دی جارہی ہے۔ مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین نے کہا کہ ریاست میں بڑے پیمانے پر کئے جارہے تقررات کی تربیت بی سی ویلفیر کی جانب سے کی جاتی ہے اور امیدوار کو فی کس 5 ہزار روپئے تین ماہ تک ادا کئے جانے کا فیصلہ بی سی وزیر نے کیا لیکن اقلیتی طلبہ کو اقلیتی ڈپارٹمنٹ سے کوئی اعلان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک تلنگانہ میناریٹی ریسیڈنشیل اسکولس کی مستقل عمارتیں نہیں ہیں اور نہ ہی اساتذہ کی مستقل جائیدادیں۔ ریاست میں ہر محاذ پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے باوجود اس کے مسلمانوں کی ترقی، خوشحالی کے بے بنیاد جھوٹے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے بطور احتجاج سی ایم کی افطار پارٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا اور افطار نہیں ترقی چاہیئے کا نعرہ بلند کیا گیا۔ رمضان المبارک میں افطار اور تحائف کیلئے 29 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں جو اقلیتی بہبود کے بجٹ کا حصہ ہے جس پر مسلم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سخت اعتراض کیا ہے اور عوام سے سی ایم کی افطار پارٹی میں شرکت نہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرونے کی اپیل کی ہے۔ ع