کھمم جلسہ کے بعد اقلیتی امور پر چیف منسٹر کے سی آر مشاورت کریں گے

   

اقلیتی اداروں کی کارکردگی ، عہدیداروں کے تقرر پر اہم فیصلے، وزیر داخلہ محمود علی کی چیف منسٹر سے نمائندگی
حیدرآباد 13 جنوری (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سنکرانتی تعطیلات اور 18 جنوری کو کھمم میں جلسہ کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کی صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقلیتی بہبود اسکیمات پر عمل آوری کیلئے فنڈس کی اجرائی ، اقلیتی اداروں میں عہدیداروں کے تقررات اور نامزد عہدوں پر قائدین کی نامزدگی جیسے امور پر غور و خوض کرکے اہم فیصلے لئے جائیں گے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے چیف منسٹر کے سی آر و وزیر صحت ہریش راؤ کو اقلیتی بہبود کی صورتحال سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے وزیر داخلہ سے خواہش کی کہ وہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی پر تفصیلی نوٹ پیش کریں تاکہ اسکیمات کیلئے درکار فنڈس جاری کئے جاسکیں۔ چیف منسٹر نے تیقن دیا کہ کھمم جلسہ کے بعد وہ وزیر داخلہ کو اقلیتی امور پر بات چیت کیلئے مدعو کریں گے۔ واضح رہے کہ محمود علی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے غریب مسلمانوں کو سبسیڈی لون کی اجرائی کے بجٹ کو 200 کروڑ کرنے کی سفارش کی ۔ حکومت نے پہلے مرحلہ میں 50 کروڑ کی منظوری دی ، بعد میں وزیر فینانس ہریش راؤ نے مزید 70 کروڑ جاری کرنے سے اتفاق کیا۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ درخواست گزاروں کی تعداد دو لاکھ سے زائد ہے ، لہذا 200 کروڑ جاری کئے جائیںتو زیادہ مستحق افراد کو قرض دیا جاسکتا ہے۔ جاریہ سال اسمبلی انتخابات ہونگے، لہذا بی آر ایس سے متعلق اقلیتوں میں غلط فہمی کے ازالہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کسی ریاست میں تلنگانہ کی طرح فلاحی اسکیمات نہیں ہیں۔ اقلیتوں کیلئے بجٹ ہے ، وہ ملک کی تمام ریاستوں کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ محمود علی نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے مستقل عہدیداروں کے تقرر پر توجہ دلائی ہے۔ واضح رہے کہ اقلیتی بہبود کے تمام اہم ادارے مستقل عہدیداروں سے محروم ہیں اور اضافی ذمہ داری کے تحت دو عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مختلف محکمہ جات کے اقلیتی اعلیٰ عہدیداروں کی خدمات ان اداروں کیلئے حاصل کی جاسکتی ہے۔ وزیر داخلہ نے نامزد عہدوں پر تقررات میں شہر اور اضلاع کے قائدین کے ناموں پر غور کی سفارش کی ہے۔ بتایا گیا کہ سنکرانتی تعطیلات اور کھمم جلسہ کے بعد اقلیتی بہبود کی صورتحال کا چیف منسٹر کی سطح پر جائزہ لیا جائے گا۔ر