کیا اب سرکاری اسکولس بند کردیئے جائیں گے …؟

   

اسکولوں کی تعداد 27 ہزار سے 4ہزار تک محدود ، اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ اور دیگر کئی مسائل پر ہریش راؤ کا ریمارک

سدی پیٹ۔ یکم ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) سدی پیٹ ضلع کے تڑک پلی ضلع پریشد ہائی اسکول میں سرکاری مدرس جوگو وینکٹیشم کی سبکدوشی کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں سابق وزیر اور بی آر ایس قانون ساز پارٹی کے نائب قائد ہریش راؤ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے کانگریس حکومت کی تعلیمی پالیسیوں اور ملازمین کے ساتھ حکومت کے رویے پر سخت تنقید کی۔ بعد ازاں انہوں نے سبکدوش ہونے والے استاد کی خدمات کو سراہا۔اس موقع پر سابق وزیر ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں سرکاری اسکولوں کی شکل و صورت بدلنے کیلئے پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں ہی تڑک پلی اسکول کو منتخب کرکے اسے تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ ڈیجیٹل کلاس رومز، ڈوئل ڈیسک، ڈائننگ ہال، پینے کا پانی، ٹوائلٹس سمیت تمام سہولیات فراہم کی گئیں۔ ہریش راؤ نے کانگریس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے کانگریس حکومت کے اقتدار میں آتے ہی اس پروگرام کو روک دیا گیا۔ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ تین سالوں میں ریاست میں کہیں بھی ایک نیا کلاس روم تعمیر کیا گیا ہے؟ریاست میں 27 ہزار اسکولوں کو صرف 4 ہزار اسکولوں تک محدود کرنے کی بات خود وزیر اعلیٰ کر رہے ہیں۔تو کیا اسکول بند کیے جائیں گے؟ دوسری طرف ہر ماہ اساتذہ ریٹائر ہورہے ہیں، لیکن ان کی جگہ نئے اساتذہ کی بھرتی نہیں کی جا رہی۔ڈی ایس سی کا انعقاد نہیں کیا جا رہا، حتیٰ کہ تعلیمی رضاکاروں کی تقرری کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔ صرف ایڈجسٹمنٹ اور ڈیپوٹیشن کے نام پر وقت گزارا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔اسکولوں میں کام کرنے والے صفائی کارکنوں کو 2024 ء سے اب تک باقاعدگی سے تنخواہیں نہیں دی گئی ہیں۔اگر کئی کئی ماہ تک تنخواہیں زیر التوا رکھی جائیں تو وہ کیسے زندگی گزاریں گے؟ ہیڈ ماسٹرز بھی اپنی جیب سے رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔دوسری جانب زندگی بھر ملازمت کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ان کے اپنے جمع کیے ہوئے جی پی ایف اور انشورنس کی رقم دینے میں بھی حکومت مشکلات پیدا کر رہی ہے۔چھ ڈی اے زیر التوا ہیں۔ پی آر سی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران سی پی ایس ختم کرکے او پی ایس نافذ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن تین سال گزرنے کے باوجود نہ تو کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی بات چیت کی گئی۔مڈ ڈے میل تیار کرنے والے کارکنوں کی صورتحال انتہائی قابلِ رحم ہوگئی ہے۔ اگر بازار میں ایک انڈے کی قیمت 8 روپئے ہے تو حکومت صرف 3.50 روپئے یا 4 روپئے دیتی ہے، تو وہ بچوں کے لیے کھانا کیسے تیار کریں گے؟ پچھلی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ناشتہ اسکیم کو بند کر دیا گیا۔ دوبارہ کچھ شروع کرنے کی بات کہی گئی، لیکن سدی پیٹ ضلع کو نظر انداز کرکے انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔آئندہ 7 تاریخ سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں ان تمام مسائل کو اُٹھائیں گے اور حکومت کو جواب دینے پر مجبور کریں گے۔آج ریاست بھر میں کئی ریٹائرمنٹ پروگرام منعقد ہو رہے ہیں، لیکن جوگو وینکٹیشم سے میری خصوصی محبت اور احترام کی وجہ سے ہی میں خود یہاں آیا ہوں۔وہ صرف اسکول تک محدود رہنے والے استاد نہیں ہیں بلکہ سماجی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والی ایک عظیم شخصیت ہیں۔