کیرالا کے اسکولوں میں مذہبی امتیازات نا قابلِ برداشت :وزیر تعلیم

   

ترواننت پورم، 28 اگست (یو این آئی) کیرالا کے وزیر تعلیم وی شیون کٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے اسکولوں میں کسی بھی قسم کے ذات پات یا مذہبی امتیاز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات تریشور کے کلمپورم میں سراج العلوم انگلش اسکول کے ایک استاد کے ایک آڈیو کلپ کے تنازعہ کے تناظر میں کہی، جس میں مبینہ طور پر کچھ طلباء کو اونم کی تقریبات سے باہر رکھا گیا تھا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکول تعلیم کا مندر ہے جہاں بچوں کو تمام مذاہب اور ذاتوں کا احترام اور محبت کرنا سکھایا جانا چاہیے ۔ ہمارے بچوں کو اسکولوں میں ذات یا مذہب کی بنیاد پرنہیں بلکہ علم اور ہنر حاصل کرنے کے لیے داخلہ دیا جاتا ہے تاکہ یہ بچے قوم کی ترقی میں اپنی حصہ داری نبھا سکیں۔ اونم، کرسمس، عید اور دیگر تمام تہواروں کو خوشی اور اتحاد کی علامت بتاتے ہوئے شیون کٹی نے کہا کہ بچوں کو ہر تہوار خوشی کے لمحے کے طور پر منانا چاہیے ۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنوں میں تفرقہ پیدا نہ کریں، ان کی ذمہ داری صرف تعلیم کی فراہمی ہے ۔ وزیر نے کہا کہ جب ہم علاج کراتے ہیں، تو ہم ڈاکٹر کا مذہب یا ذات نہیں پوچھتے ۔ جب ہم خون عطیہ کرتے ہیں تو ہم عطیہ کرنے والے کے پس منظر کی جانچ نہیں کرتے ، اسی طرح اسکولوں میں بھی کسی قسم کا امتیاز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن کو معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن تریشور کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا کام سونپا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ محکمہ تعلیم کے افسران بھی جمعے کے روز اونم کی تقریبات کے دوران اسکول میں موجود رہیں گے ۔ دریں اثنا اسکول انتظامیہ نے حکام کومطلع کیا ہے کہ اس سلسلے میں دو پری پرائمری اساتذہ کو معطل کر دیا گیا ہے ۔