مارچ 2024 تک 40,615 کروڑ قرض حاصل کرنا تھا ، دسمبر تک 39,551 کروڑ کے قرض کا حصول ، کاگ رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 29 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : ریاست تلنگانہ کو 6 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض بناتے ہوئے سرکاری خزانے کو خالی چھوڑنے والی بی آر ایس حکومت نے جاتے جاتے کانگریس حکومت کو نئے قرض حاصل کرنے کے تمام دروازے بند کردئے ۔ بی آر ایس حکومت نے سال 2023-24 کے بجٹ میں 40,615 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ کاگ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دسمبر تک ریاست نے 39,551 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرلیا ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے چہارشنبہ کو سکریٹریٹ میں 6 ضمانتوں پر عمل آوری سے متعلق پوسٹر کی اجرائی کرتے ہوئے ریاست کی مالیاتی صورتحال پر جو ریمارکس کیا ہے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ ریاست کا سرکاری خزانہ خالی ہے ۔ چیف منسٹر کا ریمارکس حال ہی جاری کردہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل ( سی اے جی ) کی رپورٹ آئینہ دار ثابت ہوئی ۔ اگر ہم اس رپورٹ کی بنیاد پر ریاست کی مالی حالت کا تجزیہ کریں تو نئی حکومت کے لیے ملازمین کی اجرت اور سبسیڈی کو چھوڑ کر موجودہ اسکیمات اور 6 گیارنٹی کے لیے فنڈز کو ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوجائے گا کیوں کہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے لیے پہلے سے ہی قرض حاصل کیا جارہا ہے ۔ نئے مالیاتی سال کے آغاز ہونے تک نیا قرض حاصل کرنے کی راہیں تقریبا ختم ہوچکی ہیں ۔ سابق بی آر ایس حکومت نے موجودہ مالیاتی سال 2023-24 جس کی تکمیل کے لیے مزید تین ماہ باقی ہے ۔ بجٹ میں تجویز کردہ سارا قرض حاصل کرلیا ہے ۔ اگرچیکہ بجٹ میں 40,615 کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی ۔ تاہم ریاستی حکومت نے دسمبر تک پہلے ہی 39,551 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرلیا ہے ۔ ( سی اے جی ) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نومبر تک 38,151 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرلیا گیا تھا ۔ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے والی کانگریس کی نئی حکومت نے 12 دسمبر کو 500 کروڑ اور 19 دسمبر کو مزید 900 کروڑ مجموعی طور پر 1400 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرلیا ۔ نئے سال 2024 کے تین ماہ جنوری ۔ فروری اور مارچ میں نئی کانگریس حکومت کو فنڈز کا اکٹھا کرنا بہت بڑا چیلنج بن سکتا ہے ۔ سابق بی آر ایس حکومت نے مالیاتی سال 2023-24 کے لیے 2,90,396 کروڑ روپئے کا بجٹ پیش کیا تھا جس میں 40,615 کروڑ روپئے اوپن مارکٹ سے بطور قرض حاصل کرنے کی تجویز پیش کی تھی ۔ اس تجویز کے مطابق سال کے 12 ماہ کے دوران قرض حاصل کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ حکومت کو ہر ماہ مختلف مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر ریتو بندھو اسکیم کے لیے فنڈز کو ایڈجسٹ کرنا ہے تو اسے جولائی ۔ اگست ۔ دسمبر اور جنوری میں تھوڑا زیادہ قرض حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ اس طرح دیگر اسکیمات کے لیے بھی حصول قرض کی ضرورت پڑتی ہے ۔ سابق حکومت نے قبل از وقت انتخابات منعقد ہونے کی امید کرتے ہوئے نومبر تک تجویز کردہ تقریبا قرض حاصل کرلیا تھا ۔ سی اے جی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نومبر تک ریاستی محصولات کے تحت 1,49,316.41 کروڑ روپئے سرکاری خزانے میں جمع ہوگئے تھے ۔ یعنی یہ تخمینہ شدہ جملہ آمدنی کا 57.46 فیصد ہے اس مرتبہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ جملہ 2,59,861.91 کروڑ روپئے کیپٹل اور ریونیو ریٹرن کے تحت آئیں گے لیکن رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ نومبر تک 1,49,316.41 کروڑ روپئے موصول ہوئے ہیں کیپٹل ریٹرن کے علاوہ 2,16,566.97 کروڑ روپئے صرف ریونیو ریٹرن کے تحت وصول ہونے کی امید تھی لیکن نومبر تک 1,11,141.37 کروڑ ( 51,223 ) موصول ہوئے تھے جس میں جی ایس ٹی کے تحت 30.047.59 کروڑ روپئے اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے تحت 9,354.84 کروڑ سیل ٹیکس کے تحت 19,591.91 کروڑ اسٹیٹ ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 14,607.58 کروڑ روپئے اور مرکزی ٹیکس شیئر کے تحت 8,177.58 کروڑ روپئے ہیں ۔ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ نومبر تک 1,44,034.48 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جس میں اہم اسکیمات پر 56.037 کروڑ روپئے سود کی ادائیگی کے لیے 14,687 کروڑ تنخواہوں کے لیے 26,548 کروڑ پنشن کے لیے 11,316 کروڑ روپئے سبسیڈی کے لیے 6,156 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ 6 گیارنٹی کے وعدے پر عمل آوری کانگریس حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے۔۔ 2