سابق وزیر آئی ٹی آندھرا پردیش لوکیش نائیڈو کو بھی ای ڈی کی نوٹس کا امکان
حیدرآباد 6ڈسمبر (سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے چیف منسٹر تلنگانہ چندر شیکھر راؤ کی دختر کے کویتا کے بعد اب سابق چیف منسٹر آندھراپردیش چندرابابو نائیڈو کے فرزند این ۔ لوکیش کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے! بی جے پی کی جانب سے آندھراپردیش میں تلگو دیشم کو کمزور کرنے کی کوششوں کا آغاز کیا جاچکا ہے۔ آندھر اپردیش اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں 2014 تا 2019 ہوئی دھاندلیوں پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے 26 افراد کو نوٹس جاری کی گئی جو کہ چندرابابو نائیڈو کے قریبی تصور کئے جاتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق دہلی شراب اسکام میں تلنگانہ ایم ایل سی کویتا کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کے آغاز کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ سابق وزیر آندھراپردیش این لوکیش کو بھی ای ڈی کی نوٹس موصول ہوسکتی ہے جو 2اپریل 2017سے مئی 2019 کے دوران وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی آندھرا پردیش رہے اور ان کے دور میں ہی آندھرا پردیش اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا اسکام ہوا تھا اور وائی ایس آر سی پی کی جانب سے مسلسل اس اسکام پر نمائندگیاں و شکایات کا سلسلہ جاری تھا ۔ اب ای ڈی سے سابق چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کے 26افراد کو نوٹسوں کی اجرائی کے بعد کہا جا رہاہے کہ بی جے پی آندھراپردیش میں تلگو دیشم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ آندھراپردیش میں بی جے پی کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن پارٹی قائدین پارٹی کو مستحکم کرنے اپوزیشن کا خلاء پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی ان کوششوں پر کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے خلاف کارروائیوں کے بعد مرکزی حکومت نے آندھراپردیش سے ملنے والی شکایات پر بھی کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔سیاسی مبصرین جو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان اتحاد متوقع ہے ان کا کہناہے کہ تلگودیشم کو ان مسائل کا شکار بنانے کے بعد پارٹی کمزور پڑسکتی ہے۔ بی جے پی تلگو دیشم کے ساتھ اتحاد کے سلسلہ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ تلگودیشم سے اتحاد میں دلچسپی نہیں رکھتی جبکہ تلگودیشم بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیلئے کوشاں ہے۔