کے سی آر کے میدک پارلیمانی حلقہ سے مقابلہ کی قیاس آرائیاں

   

قومی سیاست میں دلچسپی، گجویل کے بجائے نلگنڈہ کے اسمبلی حلقہ سے مقابلہ پر غور
حیدرآباد۔/7 جون، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کے مقصد سے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر آئندہ سال مقررہ اسمبلی انتخابات میں گجویل کے بجائے کسی اور اسمبلی حلقہ کا انتخاب کرسکتے ہیں اور 2024 میں امکان ہے کہ وہ میدک لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کریں گے۔ کے سی آر نے قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف مضبوط محاذ کی تیاری مہم شروع کی ہے جس کے تحت وہ غیر بی جے پی چیف منسٹرس اور علاقائی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کررہے ہیں۔ پارٹی میں ان دنوں چیف منسٹر کے آئندہ اسمبلی حلقہ کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ قائدین کا کہنا ہے کہ کے سی آر اس مرتبہ اپنے موجودہ اسمبلی حلقہ گجویل کے بجائے کسی اور حلقہ کا انتخاب کرسکتے ہیں اور اس سلسلہ میں نلگنڈہ ضلع کے منگوڑ اسمبلی حلقہ کا نام لیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2024 عام انتخابات میں میدک لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کا منصوبہ ہے تاکہ قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے میں مدد ملے۔ اس پارلیمانی حلقہ کی فی الوقت کے پربھاکر ریڈی نمائندگی کررہے ہیں۔ امکان ہے کہ انہیں دوباک اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ پربھاکر ریڈی اسمبلی میں داخلہ کے بارے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ پربھاکر ریڈی نے سابق میں بھی اس اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کی مساعی کی تھی لیکن پارٹی نے ایس رام لنگا ریڈی کو ترجیح دی۔ رام لنگا ریڈی کے دیہانت کے بعد ٹی آر ایس میں اس حلقہ کے لئے کوئی مضبوط دعویدار نہیں ہے اور ضمنی چناؤ میں بی جے پی امیدوار رگھونندن راؤ نے رام لنگا ریڈی کی بیوہ کو شکست دی۔ پربھاکر ریڈی کا تعلق دوباک اسمبلی حلقہ سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ اور وزیر فینانس ہریش راؤ سے اس مسئلہ پر پربھاکر ریڈی نے بات چیت کی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں حصہ لینے اور حلقہ جات کے تعین کے بارے میں انتخابات سے قبل کی صورتحال مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ر