کے سی آر ہنوز سیاسی سرگرمیوں سے دورمناسب وقت پر حرکت میں آنے کے منتظر

   

حیدرآباد : 21 جنوری (سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ ہنوز سیاسی سرگرمیوں سے دو ر ہیں۔ بی آر ایس ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ کے سابق چیف منسٹر جو الیکشن میں پارٹی کی شکست کے بعد سے سیاسی میدان تقریباً غائب رہے ہیں۔ امکان ہے کہ وہ اپنی پراسرار خاموشی کو مزید کچھ عرصہ کے لیے جاری رکھیں گے۔بی آر ایس کے 2023 میں تلنگانہ ریاستی انتخابات میں کانگریس سے ہارنے کے بعد کے سی آر نے 2024 میں ایک بار بس یاترا کا اعلان کیا جس کے بعد وہ ایک بار پھر اپنی سیاسی نیند میں چلے گئے۔ کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ اب تک پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں جو اس وقت ریاست میں اہم اپوزیشن ہے۔ کے سی آر بمشکل عوامی طور پر سامنے آئے ہیں۔ایک بی آر ایس لیڈر نے نام خفیہ رکھنے پر کہا کہ کے سی آر زیادہ دیر تک خاموش رہنے والے ہیں تاکہ عوام ‘ موجودہ برسراقتدار کانگریس سے بی آر ایس حکومت کے درمیان فرق کو سمجھ جائے۔ کے سی آر کو ابھی عوام میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صحیح وقت آنے پر وہ سرگرم ہو جائیں گے۔ بی آر ایس لیڈر نے اشارہ دیا کہ پارٹی کی حکمت عملی ریاست کی تشکیل اور ان مسائل سے فائدہ اٹھانا ہو سکتی ہے جو کے سی آر کے فعال ہونے پر ایک بار پھر اس کی بنیاد ہیں۔ 2018 کے تلنگانہ انتخابات کے دوران کے سی آر نے حیدرآباد میں رہنے والے آندھرا نژاد لوگوں کے حوالے سے ’آؤٹ سائیڈر‘ یا ’سیٹلر‘ مسائل کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا اور بی آر ایس کی جیت ہوئی۔
2023 کے تلنگانہ انتخابات میں ہارنا بھی KCR کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا کیونکہ بی آر ایس کو تیسری بار جیتنے کا یقین تھا۔ اپنی عوامی اسکیمات کے باوجود بی آر ایس الیکشن ہار گئی۔بی جے پی جس نے آٹھ سیٹیں جیتیں اور 20% ووٹ شیئر حاصل کیا اس نے بھی بی آر ایس اور کانگریس دونوں کے ووٹوں کو کھا کر نتائج کو متاثر کیا۔ زعفرانی پارٹی کو 2018 کے تلنگانہ انتخابات میں صرف 7 فیصد ووٹ ملے تھے اس وقت صرف ایک سیٹ جیتی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس بھی کے سی آر کو بدعنوانی کے الزامات پر ان کے خاندان پر لگاتار حملوں سے باہر نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔