اسمبلی اور کونسل میں انحراف کی حوصلہ افزائی، تلنگانہ عوام کبھی معاف نہیں کریں گے
حیدرآباد۔ 7 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے چیف منسٹر کے سی آر کو دلتوں اور مسلمانوں کے مخالف قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی اور کونسل میں دلت اور مسلم کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر برداشت نہ کرتے ہوئے کانگریس ارکان کے انحراف کی سازش تیار کی گئی۔ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کسم کمار اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے علیحدہ علیحدہ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے ٹی آر ایس میں انضمام کو غیر دستوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے حکومت کے دبائو میں آکر کانگریس ارکان اسمبلی کی درخواست پر فوری کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے دن دہاڑے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ کسم کمار نے کہا کہ بھٹی وکرامارکا کو قائد اپوزیشن کے عہدے پر چیف منسٹر برداشت نہیں کرسکے۔ کیوں کہ ان کا تعلق دلت طبقے سے ہے۔ 12 ارکان اسمبلی کے انحراف کے ذریعہ بھٹی وکرامارکا کو قائد اپوزیشن کے عہدے سے محروم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں مخالف تلنگانہ پارٹی کو اصل اپوزیشن کا موقف دینے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کسم کمار نے کہا کہ اسمبلی میں دلت اور کونسل میں مسلمان کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر برداشت نہیں کیا گیا۔ کونسل میں کانگریس کے ارکان کو انحراف کے لیے مجبور کرتے ہوئے مسلمہ اپوزیشن کے موقف سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر مسلمانوں اور دلتوں سے جھوٹی ہمدردی دکھاتے ہیں، حقیقت میں وہ ان طبقات کے خلاف ہیں۔ آئندہ انتخابات میں یہ طبقات انہیں سبق سکھائیں گے۔ کسم کمار نے کہا کہ اسپیکر کا فیصلہ تلنگانہ کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اپنے دستوری فرائض کو نظرانداز کرتے ہوئے اسپیکر نے یہ فیصلہ لیا۔ کانگریس لیجسلچیر پارٹی کا اجلاس سی ایل پی لیڈر کے بغیر کس طرح منعقد ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس کے لیے صدرپردیش کانگریس کی اجازت ضروری ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے کانگریس ارکان اسمبلی کی خریدی کو شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لالچ اور دولت کے ذریعہ ارکان اسمبلی کو انحراف پر مجبور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو یہ منظور نہیں تھا کہ ایک دلت ان کے مقابلہ میں کھڑا رہے۔ قاعد اپوزیشن کے عہدے پر بھٹی وکرامارکا کو برداشت نہ کرتے ہوئے یہ سازش رچی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو پارٹی میں داخلی انتشار کا خوف ہے لہٰذا اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ارکان اسمبلی کو خریدا جارہا ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ منحرف ارکان اسمبلی کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ ایسے میں اسپیکر کس طرح انضمام کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔