دوسری پارٹیوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کے مقامی کیڈر نے قبول نہیں کیا
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : حکمران ٹی آر ایس پارٹی میں گروپ بندیاں اور پارٹی قائدین کے درمیان اختلافات عروج پر پہونچ چکے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کے ناراض قائدین کو سمجھانے منانے یا انہیں حیدرآباد طلب کرتے ہوئے مذاکرات کرنے کے باوجود اختلافات ختم نہیں ہورہے ہیں بلکہ پارٹی قائدین ایک دوسرے خلاف میڈیا میں کھل کر بیانات دیتے ہوئے پارٹی قیادت کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گئے ہیں ۔ ایک طرف پرشانت کشور کی رپورٹ سے ٹی آر ایس میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں ۔ 40 موجودہ ارکان اسمبلی کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہونے کی خفیہ رپورٹس منظر عام آنے کے بعد ٹی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی یا پارٹی میں دوسرے درجہ کے قائدین بشمول ارکان قانون ساز کونسل ، کارپوریشنس کے صدر نشین وغیرہ ٹکٹ کے دوڑ میں کود پڑے ہیں اور ارکان اسمبلی کی موجودگی کے باوجود اپنی علحدہ سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے گروپ بندیوں کو فروغ دے رہے ہیں ۔ موجودہ ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دوسرے قائدین پروگرامس میں عوام کو اکھٹا کرتے ہوئے اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہے ، دوسری جانب کانگریس اور دوسری جماعتوں کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کا مقامی کیڈر بالخصوص ٹی آر ایس کے جن امیدواروں کو شکست ہوئی بشمول سابق ارکان اسمبلی انہیں پارٹی میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ کئی ایسے اسمبلی حلقے ہیں جہاں ٹی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی اور موجودہ ارکان اسمبلی میں راست تناؤ ہے ۔ دونوں گروپس پارٹی کے پروگرامس میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کررہے ہیں جس سے ٹکراو کی صورتحال پیدا ہورہی ہے اور کئی مواقع پر دونوں گروپس میں بحث و تکرار کے ساتھ ہاتھا پائی کی نوبت بھی آئی حالت پر قابو پانے کے لیے پولیس کو درمیان میں مداخلت کرنا پڑا ہے ۔ ضلع ناگر کرنول کے اسمبلی حلقہ کولاپور میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے بی ہرش وردھن ریڈی اور سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کے درمیان ابتداء سے سرد جنگ چل رہی ہے ۔ جو فی الحال عروج پر پہونچ چکی ہے ۔ طویل عرصہ سے دونوں قائدین کے درمیان جو جنگ چھیڑی ہے اس کو روکنے میں ٹی آر ایس قیادت ناکام ہوگئی ہے ۔ ترقیاتی کاموں میں حصہ لینے کے لیے 18 جون کو ریاستی وزیر ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کولاپور کا دورہ کیا اور ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ بھی ہرش وردھن ریڈی کو پارٹی ٹکٹ دینے کا اعلان کیا ۔ ہرش وردھن ریڈی کے گھر میں لنچ کرنے کے بعد ناراض سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کی قیام گاہ پہونچ کر ان سے ملاقات کی انہیں حیدرآباد پہونچ کر چیف منسٹر کے سی آر سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا ۔ لیکن انہوں نے اپنی ناراضگی جاری رکھی اور موجودہ رکن اسمبلی ہرش وردھن ریڈی کو حلقہ کی ترقی پر 26 جون کو مجسمہ امبیڈکر کے پاس کھلے عام مباحث کا چیلنج کردیا ۔ جس کے جواب میں رکن اسمبلی ہرش وردھن ریڈی نے مجسمہ امبیڈکر کے بجائے جوپلی کے گھر پہونچ کر مباحثہ میں حصہ لینے کا جوابی اعلان کیا ۔ ضلع رنگاریڈی کے تانڈور اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے کیپٹن روہت ریڈی ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے جس کے بعد سابق وزیر پی مہیندر ریڈی کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے انہیں قانون ساز کونسل کا رکن بنایا ہے پھر بھی دونوں کے درمیان گروپ بندیاں جاری ہیں ۔ پی مہیندر ریڈی نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے ۔ اسمبلی حلقہ مہیشورم سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والی سبیتا اندرا ریڈی نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی جنہیں چیف منسٹر نے ریاستی کابینہ میں بھی شامل کیا ۔ ان کے اور سابق رکن اسمبلی ٹی کرشنا ریڈی کے درمیان اختلافات میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ ٹی آر ایس قیادت نے ٹی کرشنا ریڈی کی ناراضگی کو دور کرنے کے لیے ان کی بہو کو ضلع پریشد کا صدر نشین بنایا ہے پھر بھی دونوں کے درمیان جنگ چل رہی ہے ۔ ضلع کھمم میں بھی ٹی آر ایس گروپ بندیوں کا شکار سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی کو پارٹی نے دوبارہ ٹکٹ نہیں دیا اور ساتھ ہی انہیں راجیہ سبھا اور کونسل کا رکن بنایا گیا جس سے وہ پارٹی قیادت سے ناراض ہے ۔ حال ہی میں کے ٹی آر نے ضلع کھمم کا دورہ کرتے ہوئے ناراض پی سرینواس ریڈی اور سابق زیر ٹی ناگیشور راؤ کو منانے کی کوشش کی مگر موجودہ وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار اور دوسرے قائدین کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہیں ہوسکا ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی سے کامیاب ہو کر ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی ٹی وینکٹیشورلو نے بھی ٹی آر ایس قیادت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی میں نظر انداز کیا جارہا ہے اور کہا کہ وہ سیاست میں کے ٹی آر سے سینئیر ہے ۔ پہلے پارٹی میں شامل کرایا گیا اور اب توہین کرنے کا الزام عائد کیا ۔ اس طرح ضلع نلگنڈہ کے اسمبلی حلقہ نکریکل میں بھی موجودہ رکن اسمبلی سی لنگیا کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے کئی ارکان اسمبلی اور دوسرے قائدین جنہیں ٹکٹ ملنے کا امکان نہیں ہے وہ کانگریس اور بی جے پی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔۔ن