کے ٹی آر کے ریمارکس پر سابق ارکان اسمبلی کی ناراضگی

   

شکست کے لیے مقامی ارکان اسمبلی اور کامیابی کے لیے کے سی آر کو اعزاز دینے پر اظہار برہمی
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی جانب سے بار بار ارکان اسمبلی کو تبدیل کرنے پر کے سی آر ہیٹ ٹرک چیف منسٹر بننے اور مسلسل تیسری مرتبہ بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کا دعویٰ کرنے پر بی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی سخت ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ پارٹی کی شکست کے لیے صرف ارکان اسمبلی کو ذمہ دار قرار دینے پر برہمی کا اظہار کررہے ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ بی آر ایس کے اہم قائدین پر بھی عوام ناراض تھے ۔ 10 سالہ مخالف حکومت لہر کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ گذشتہ ایک ماہ سے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے بی آر ایس کی شکست کے لیے سابق وزیر کے ٹی آر سابق رکن اسمبلی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چند ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے چہروں کو ٹکٹ دیا جاتا تو ریاست میں بی آر ایس کو تیسری مرتبہ اقتدار حاصل ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ پارلیمنٹ انتخابات کی تیاریوں کا تلنگانہ بھون میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے بار بار یہی بات دہرا رہے ہیں ۔ جس پر اسمبلی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والے سابق ارکان اسمبلی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں ۔ سابق ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ جہاں بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ وہاں کامیابی کا اعزاز سابق چیف منسٹر کے سی آر کو دیا جارہا ہے ۔ جہاں پارٹی کو شکست ہوئی ہے وہاں مقامی ارکان اسمبلی کو ذمہ دار بنایا جارہا ہے ۔ پارٹی قیادت اور ذمہ دار قائدین کا یہ رجحان ٹھیک نہیں ہے ۔ اس طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے پارٹی کے کیڈر میں سابق ارکان اسمبلی کے خلاف ناراضگی بڑھائی جارہی ہے اور ساتھ ہی گروپ بندیوں کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سابق ارکان اسمبلی پارٹی قیادت سے استفسار کررہے ہیں کہ کے سی آر کو چیف منسٹر بنانے کی خواہش رکھنے والے عوام بی آر ایس کو کیسے شکست دے سکتے ہیں ۔ انتخابات سے عین قبل متعارف کردہ اسکیمات دلت بندھو ، بی سی بندھو اور اقلیتی بندھو پارٹی کی شکست کے لیے اثر دار ثابت ہوئی ہے ۔ چند لوگوں کو فائدہ ہوا زیادہ تر لوگ ان اسکیمات سے محروم ہوئے جس سے عوام کی حکومت پر ناراضگی میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ بیشتر سابق ارکان اسمبلی کا تاثر ہے کہ گذشتہ 10 سال کے دور میں ہمیں کبھی پرگتی بھون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ تلنگانہ بھون کو پہونچنے کے لیے بھی ڈر لگتا تھا ۔ کے ٹی آر سرسلہ کا دورہ کرتے ہوئے بھی ہم سے ملاقات کرنا مناسب نہیں سمجھا پارٹی قائدین اور ارکان اسمبلی کو اپنے نظریات اور خیالات پیش کرنے کا ایک بھی موقع فراہم نہیں کیا گیا۔۔ 2