گارڈن ویو وقف کامپلکس کو شدید خطرہ

   

کامپلکس کو فوری تعمیر کرکے لیزپر دینے سی ای او وقف بورڈ سے محمد عثمان الہاجری و دیگر کی نمائندگی
حیدرآباد۔/8 فروری، ( پریس نوٹ ) رزاق منزل حج ہاوز سے متصل اس انتہائی قیمتی اراضی کوکانگریس دور حکومت میں خرید کر گارڈن ویو وقف کامپلکس کے نام سے تقریباً 67 کروڑ روپئے کی لاگت سے تعمیری کام شروع کیا گیا تھا، 2014 میں ٹی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد اس وقف کامپلکس کے تعمیراتی کام کو ادھورا چھوڑدیا گیا، نہ ہی کسی کو لیز پر دیا جارہا ہے اور نہ ہی اس کی جانب سے کوئی توجہ دی جارہی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اقلیتوں کا کتنا خیال رکھتی ہے۔ جناب عثمان بن محمد الہاجری نے وقف بورڈ کے ارباب مجاز سے گذشتہ کئی سال سے تحریری نمائندگی کے علاوہ احتجاجی دھرنے بھی منظم کئے۔ جناب عثمان الہاجری کی قیادت میں آج جناب ارشد شیخ چیرمین گریٹر حیدرآباد میناریٹی ڈپارٹمنٹ، جناب مقبول بن عبداللہ الہاجری نائب صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی، مہدی پٹنم ڈیویژن انچارج جناب محمد عبدالخالق (عرفان ) ، کانگریس ایل ڈی ایم حیدرآباد انچارج جناب عبدالماجد صدیقی، جناب عبدالکریم صدیقی کے علاوہ دیگر کانگریسی کارکنوں نے انچارج سی ای او جناب خواجہ معین الدین سے ملاقات کرتے ہوئے مذکورہ عمارت کے سیلار میں موجود تقریباً7 فٹ پانی کی فی الفور نکاسی اور کسی بھی مناسب کمپنی کو لیز پر دینے کا مشورہ دیا، جس سے مستحق طلباء و طالبات کی فیس کی ادائیگی کے علاوہ مجبور، بیوہ خواتین اور دیگر مستحق مسلمانوں کی مدد کی جاسکے۔ انہوں انتباہ دیا کہ اگر اس عمارت سے اسی طرح لاپرواہی برتی گئی تو دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی کانگریس پارٹی کے علاوہ دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں و تحفظ اوقاف کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ گارڈن ویو کامپلکس پر احتجاجی دھرنا منظم کرے گی۔