18 تا 24 سال عمر کے نوجوان زیادہ شکار ہونے لگے ہیں
نشہ میں قتل و خون کے واقعات بھی عام ۔ معاشرتی زندگی بھی متاثر
لعنت گنجان آبادیوں سے تعلیمی اداروں تک سرائیت کر گئی
دینی و ملی تنظیموں اور مقامی عوام کو بھی فوری حرکت میں آنے کی ضرورت
سید خلیل قادری
حیدرآباد ۔19 اپریل : تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کا مرکز سمجھا جانے والے شہر حیدرآباد کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ اب یہ شہر اپنی تہذیب ‘ رکھ رکھاؤ یا پھر اعلی اخلاق کیلئے نہیں بلکہ منفی وجوہات کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے لگا ہے ۔ شہر میں آئے دن قتل کے واقعات جہاں لا اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال کو اجاگر کرتے ہیں اور انسانی خون کی ارزانی کو ظاہر کرتے ہیں وہیں اس کے نتیجہ میں عوام میں خوف و بے چینی کی فضاء بھی پیدا ہونے لگی ہے ۔ قتل و خون اور بے راہ روی کے واقعات کے پس پردہ محرکات اور وجوہات کا اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ’ نشہ ‘ نے حیدرآباد شہر کی پہچان کو متاثر کرکے رکھ دیا ہے ۔ اب حیدرآباد کو نشہ کی وجہ سے بھی جانا جانے لگا ہے ۔ حیدرآباد کا شائد ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں گانجہ اور نشہ کا استعمال عام نہیں ہوگیا ہو ۔ بات صرف پرانے شہر کی نہیں ہے بلکہ نئے شہر اور شہر کے اطراف بسنے والی نئی بستیوں کی بھی جہاں تعلیمی اداروں میں تک نشہ کی لعنت سرائیت کرگئی ہے ۔ خاص طور پر مسلم سماج اس لعنت کا بہت زیادہ شکار دکھائی دے رہا ہے ۔ مسلم آبادیوں کے درمیان نشہ آور اشیاء اور گانجہ کی بآسانی دستیابی ملت کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگارہی ہے ۔ گانجہ کی لعنت اس حد تک سرائیت کرگئی ہے کہ 18 سال یا اس سے کم عمر کے نوجوان بھی اس لعنت کا شکار ہوتے چلے جا رہی ہیں۔
دن بدن گانجہ کی لعنت کا شکار ہو کر اپنا اور قوم کا مستقبل تباہ کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ پرانے شہر میں کئی ایسے مقامات ہیں نوجوانوں کی کثیر تعداد گانجہ کی لت کا شکار ہونے لگی ہے ۔ خاص طور پر غریب اور سلم بستیوں کے نوجوان ‘ جن کی کوئی رہنمائی نہیں کرتا ‘ وہ اس لعنت کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لت کی وجہ سے نوجوانوں کا ذہن کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہ جاتا ۔ انہیں فکر ہوتی ہے صرف نشہ کی یا گانجہ کی ۔ شہر کی گنجان بستیوں میں ‘ شام ڈھلے کھلے اور سنسان مقامات پر یہ نوجوان اپنے شوق کی تکمیل کیلئے پہونچ جاتے ہیں۔ گانجہ کی لعنت نے نوجوانوں کو ایک طرح سے بے حس بھی کردیا ہے ۔ وہ اپنے گھروںا ور اپنے والدین یا اپنے بھائی بہنوں کے بارے میں بھی سوچنے تیار نہیں ہے ۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بڑھتی عمر کے نوجوان اس کا شکار ہو کر اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں۔ 18 تا 24 سال عمر کے نوجوان سب سے زیادہ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس لعنت کی وجہ سے کئی گھروں میں تباہی آ رہی ہے ۔ سارے خاندان کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے لیکن اس لعنت پر قابو پانے اور اس کا خاتمہ کرنے کیلئے معاشرہ میں کوئی پہل نہیں ہو رہی ہے ۔ پولیس بھلے ہی نشہ کے خلاف مہم چلا رہی ہو لیکن اس کے نتائج خاطر خواہ برآمد نہیں ہو رہے ہیں۔ سماجی سطح پر بستیوں میں اس لعنت کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ شہر کی کئی گنجان بستیاں ایسی ہیں جہاں ان ہی بستیوں کے مکینوں کی جانب سے نشہ آور اشیاء اور گانجہ وغیرہ فروخت کیا جاتا ہے ۔ چند روپئے کمائی کے لالچ میں یہ بے حس لوگ قوم و ملت کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ یہ بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے فوری طور پر کوئی موثر مہم شروع نہیں کی گئی اور نوجوانوں کو اس لعنت سے چھٹکارہ نہیں دلایا گیا تو قوم و ملت کا مستقبل بھی داؤ پر لگ جائے گا ۔ آج سینکڑوں بلکہ ہزاروں خاندان اس لعنت کا شکار ہیں ۔ ہزاروں نوجوان محض نشہ میں اپنی جوانی اور زندگی دونوں ہی برباد کر رہے ہیں۔ انہیں نہ اپنے مستقبل کی فکر ہے اور نہ ہی اپنے گھر یا خاندان کی پرواہ رہ گئی ہے ۔ وہ انتہاء درجہ کی بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں اور مختلف دیگر برائیوں کا بھی شکار ہونے لگے ہیں۔ پولیس ہو یا پھر سماج سدھار کی تنظمیں ہوں یا پھر خود محلوں کی سطح پر عوام ہوں ان کو اس لعنت کے تعلق سے غفلت کا سلسلہ ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوںاور قوم و ملت کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری حرکت میں آنا چاہئے ۔ مزید لاپرواہی کے نتائج بھی بہت سنگین ہوسکتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو نوجوان اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں انہیں اس کا احساس تک نہیں ہے ۔ وہ اسی کو زندگی سمجھنے لگے ہیں۔ نشہ اور خاص طور پر گانجہ کے مضر اثرات سے ان نوجوانوں میں مسلسل شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ دینی اور مذہبی تنظیموں اور اداروں کو خاص طور پر اس معاملے میں اپنا ذمہ دارانہ رول ادا کرنا چاہئے ۔ محض جلسوں یا جلوسوں تک خود کو محدود کرنے کی بجائے معاشرہ اور ملت کو اس لعنت سے بچانے کیلئے کام کرنا چاہئے ۔ نوجوانوں کی شکل میں ساری قوم کا مستقبل کھوکھلا ہونے لگا ہے ۔ اس سے پہلے کہ کف افسوس ملنے کے سواء کچھ نہ کیا جاسکے سب کو اس لعنت کا خاتمہ کرنے ‘ نوجوانوں میں اس تعلق سے شعور بیدار کرنے ‘ مقامی اور محلہ واری سطح پر اس کے تعلق سے مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس لعنت کے خاتمہ کیلئے کوششیں جتنی تاخیر سے شروع ہونگی قوم و ملت کا اتنا ہی زیادہ نقصان ہوچکا ہوگا ۔