گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹلس سے خانگی فارمیسی برخاست کرنے کی کارروائی

   

مریضوں کو ہاسپٹل سے ادویات کی مفت سربراہی، سرکاری ڈاکٹرس کے رویہ کی ہریش راؤ سے شکایت

حیدرآباد۔/12 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے غریب مریضوں کو سرکاری دواخانوں سے ادویات کی سربراہی کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری دواخانوں میں موجود خانگی فارمیسی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس سے کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ حکومت نے غریبوں کیلئے ڈاکٹرس کی جانب سے تجویز کردہ ادویات کو سرکاری دواخانہ سے ہی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ میڈیکل انفرااسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے 80 فیصد ادویات فراہم کی جائیں گی جبکہ باقی 20 فیصد ہاسپٹل اپنے ہنگامی بجٹ سے حاصل کرے گا۔ ڈاکٹرس کی جانب سے تجویز کردہ 20 تا30 فیصد ادویات کو باہر سے حاصل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ وزیر صحت ہریش راؤ سے عوام نے سرکاری ڈاکٹروں کے رویہ کی شکایت کی جس میں کہا گیا کہ سرکاری ڈاکٹرس خود باہر سے ادویات حاصل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ سرکاری ڈاکٹرس ایسی کمپنیوں کی ادویات تجویز کررہے ہیں جو سرکاری دواخانہ میں دستیاب نہیں ہیں۔ ہریش راؤ کے سرکاری دواخانوں کے دورہ کے موقع پر ایسی شکایات موصول ہوئیں جس کے بعد ہریش راؤ نے سرکاری دواخانوں کے احاطہ سے خانگی فارمیسی برخاست کرنے اور عوام کو دواخانہ کے کاؤنٹر سے ادویات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹلس میں روزانہ تقریباً 4 ہزار سے زائد آؤٹ پیشنٹ مریض آتے ہیں جبکہ اِن پیشنٹ مریضوں کی تعداد تقریباً 400 ہے دونوں کو ملاکر 200 مریضوں کو بڑے امراض کے علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔ آؤٹ پیشنٹ کے طور پر 80 فیصد مریضوں کو ڈاکٹرس معائنہ کے بعد ادویات تجویز کرتے ہیں ان میں سے بعض ادویات ہاسپٹل سے مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ دیگر ادویات کو خانگی فارمیسی سے حاصل کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خانگی فارمیسی کو 40 تا 60 فیصد فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ گاندھی ہاسپٹل میں 3 اور عثمانیہ میں 2 خانگی فارمیسی ہیں اور ہر ماہ تقریباً 6 کروڑ روپئے کا کاروبار کیا جاتا ہے۔ بعض سرکاری ڈاکٹرس کی جانب سے خانگی فارمیسی کی حوصلہ افزائی کی شکایت کے بعد حکومت نے پہلے مرحلہ میں عثمانیہ اور گاندھی سے خانگی فارمیسی برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ر