گجرات حادثہ کے باوجود کرناٹک میں کیبل بریج پر کار چلانے کی کوشش

   

بنگلورو: کہیں بھی اور کسی بھی مقام پر ہونے والے خوفناک حادثات کے بعد لازمی ہوجاتا ہے کہ دیگر ریاستوں اور تمام مقامات کے عوام اس معاملہ میں محتاط ہوجائیں کہ مستقبل میں ایسا کوئی حادثہ وہاں پیش نہ آئے۔اتوار 30 اکتوبر کو گجرات کے موربی میں 233 میٹر طویل اور 104 سالہ قدیم کیبل بریج کے اچانک ٹوٹ کرندی میں گرجانے سے 147 سے زائدافراد ہلاک ہوگئے۔ جن میں خواتین، بچے اور ضعیف افراد بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ موربی میں گجرات کے دارالحکومت احمدآباد سے 200 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود مچھو ندی پر پیش آیاتھا۔اتوار کی شام کیبل بریج کیٹوٹنے کے باعث اس پر موجود زائداز 400 افراد ندی کے پانی میں گرگئے تھے۔ چندافراد نے کسی طرح جہاں خود اپنی جان بچائی وہیں،بچاؤ ٹیموں کے علاوہ وہاں موجود نوجوانوں نے بھی اپنی جان پر کھیل کر سینکڑوں افراد کو بحفاظت ندی سے نکال لیا تھا۔یہ حادثہ ساری دنیا میں کسی بھی کیبل بریج کے ٹوٹنے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک ہونے والا پہلا حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد بھی کرناٹک کا ایک ایسا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے کہ ندی پر موجود پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے کیبل بریج پر سیاحوں نے کار چلانے کی کوشش کی گئی تاہم مقامی افراد نیاس پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کار کو واپس لے جانے پر مجبور کردیا۔صحافی ہریش اپادھیائے نے اس واقعہ کے ویڈیو کو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھاہے کہ’’موربی بریج حادثہ کے بعدکوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔ مہاراشٹرا کے غنڈے/سیاح کرناٹک کے شمالی ضلع کے ایلا پورہ قصبہ میں ایک جھولنے والے پل پر کار چلاتے ہوئے دیکھے گئے۔آخر کارمقامی لوگوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کار کو ریورس گیئر میں بریج سے پیچھے لے جانے پر مجبور کیا گیا’’۔اس مہاراشٹرا کے نمبر پرمشتمل ماروتی 800 کار والے ویڈیو میں ان سیاحوں کی غیر ذمہ داری بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ کار مکمل طورپر بریج میں پھنس کر چل رہی ہے۔