حکومت کو عدالتی نوٹس ، مدھیہ پردیش ، اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش اور یو پی میں منظوری کا تذکرہ بے موقع
احمد آباد : عدالت نے ازخود تبدیلی مذہب کے ذریعہ شادی کا نوٹ لیتے ہوئے حکومت گجرات کو شادی کی حقیقی وجہ جاننے کیلئے نوٹس دیدی ۔ /5 اگست کو گجرات ہائیکورٹ نے یہ نوٹس جاری کی جس میں حقِ آزادی ترمیمی مسودہ قانون 2021 ء جس کو یو پی ، اتراکھنڈ ، ایچ پی اور مدھیہ پردیش میں منظور کیا گیا تھا ۔ ریاست گجرات اس قانون کی منظوری کے اعتبار سے تازہ ترین ریاست بن گئی ہے جس میں دھوکہ دہی بشمول شادی کے ذریعہ تبدیل مذہب کو تعزیری جرم اور ’’لو جہاد‘‘ قرار دیا جائے گا ۔ چیف جسٹس وکرم ناتھ کی زیرقیادت جسٹس برین وشنو پر مشتمل ایک بنچ نے قانون کی بعض دفعات پر نظرثانی کا حکم دیا ہے جنہیں سماعت کے ابتدائی مرحلہ میں ہی قابل اعتراض سمجھا جارہا تھا ۔ موجودہ قانون مبینہ طور پر بنچ کے زبانی تبصرہ کا نشانہ بنا جس میں بنچ نے کہا ’’ یا تو آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ دھوکہ دہی کے ذریعہ زبردستی شادی کروانا اور اس کے لئے جبری تبدیلی مذہب بنیادی حق اور منصفانہ نہیں ہے لیکن اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی شخص مذہب شادی کیلئے تبدیل کرتا ہے تو یہ ایک جرم قرار دیا جائے گا (اگر یہ درست ہے )‘‘ ۔ بنچ کی رائے میں اگر بین مذہبی شادی جو دھوکہ دہی کے ذریعہ کی گئی ہو جرم ہے ۔ قانون داں لوکمار نے دعویٰ کیا کہ قانون کا مقصد دھوکہ دہی پر روک لگانا ہے اگر کوئی مذہب تبدیل کرتا ہے تو شادی کالعدم قرار پائے گی ۔ اس پر مبینہ طور پر وکرم ناتھ نے جوابی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2 افراد کا شخصی معاملہ ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بنچ ریاستی حکومت کو مداخلت کا حکم دے رہی ہے جو کسی شخص کی خلوت میں دخل اندازی کے مترادف ہے ۔ عدالت نے اس بات کو جوڑے کی مرضی پر چھوڑدینے کیلئے کہا جو مذہب شادی کیلئے تبدیل کرتا ہو 2003 ء کے ابتدائی قانون میں جبری اور اس کے لئے ترغیب دینے کو جرم قرار دیا گیا تھا ۔ تاہم 2021 ء میں اس قانون میں ترمیم کی گئی اور شادی کیلئے تبدیل مذہب کو اُس صورت میں جرم قرار دیا گیا جبکہ اس سے یو پی ، اتراکھنڈ ، ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش وغیرہ کے منظورہ قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہو ۔ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس نامی تنظیم نے بھی اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں درخواست پیش کی ہے اور لوجہاد قوانین کو چیلنج کیا ہے ۔ یو پی ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش کے انسداد تبدیلی مذہب قوانین کے جواز کو بھی چیلنج کیا گیا ہے ۔ درخواست میں ان وجوہات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو اس چیلنج کا سبب بنے ۔ ان میں خلوت ، ماورائے دستور ، پولیس اختیارات اور غیر سرکاری افراد کے اختیارات کو بھی چیلنج کیا گیا تھا ۔ تمام سیکولرازم ، مساوات اور عدم تعصب پر مبنی دفعات کو ناقابل مباحث قرار دینے کو بھی چیلنج کیا گیا ۔ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا تنظیم قوانین کے مقصد کا استحصال نہیں کرسکتی ۔ اپریل میں سپریم کورٹ نے ایک تبصرہ کیا تھا جو انفرادی حق کے بارے میں تھا جو تبدیل مذہب کے سلسلہ میں کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ اس وقت کالے جادو ، وہم پرستی ، اجتماعی تبدیلی مذہب کے موضوع پر تبصرہ کررہی تھیں ۔ عدالت نے کہا تھا ’’مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اگر 18 سال سے زیادہ کی عمر کا کوئی فرد تبدیلی مذہب کا فیصلہ کرتا ہے تو ترغیب دینے کا لفظ اس کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا جس کی گنجائش دستور میں موجود ہے ‘‘۔