گذشتہ دہے میں پسماندہ طبقات و اقلیتوں سے دوسرے درجہ کے شہریوں جیسا سلوک

,

   

مذہبی بنیاد پرستی کا عروج ۔ معاشرہ کو تقسیم کرنے کی کوششیں۔ یوم جمہوریہ کے موقع پر صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کا پیام

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے یوم جمہوریہ پر ہم وطنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آمرانہ انداز میں کام کر کے سب کے وقار کو ٹھیس پہنچا رہی ہے اور لوگوں کے آئینی حقوق پر مسلسل حملہ کیا جا رہا ہے ۔ 76 ویں یوم جمہوریہ پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت انانیت سے بھری ہے اور اداروں کی خود مختاری چھین رہی ہے ، وفاقی ڈھانچے پر حملہ کر رہی ہے اور اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ مذہبی جنونیت کو ہوا دے کر کمزور طبقات پر مظالم ڈھائے گئے ہیں ۔ حکمران جماعت قوم پرستی اور برتری کا علمبردار بن کر ملک کے تنوع اور نوجوانوں کے ساتھ کھیل رہی ہے اور حکومت معاشی محاذ پر مکمل ناکام ثابت ہوئی ۔کھرگے نے کہاکہ آج ہندوستان کے آئین، ہندوستانی جمہوریہ کی روح اور اس کے ضمیر کی حفاظت کے 75 سال ہو رہے ہیں۔ ہم مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر، نیتا جی سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر راجندر پرساد ، مولانا آزاد، سروجنی نائیڈو اور دیگر عظیم لوگوں کو خراج پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس عظیم جمہوریہ کی تعمیر میں انتھک تعاون کیا۔ کھرگے نے کہاکہ یہ نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ملک میں ہمارے آئین پر مسلسل حملہ ہو رہا ہے ۔ حکمران جماعت نے ہمارے اداروں کی خود مختاری کو مسلسل ختم کیا ہے ۔ خودمختار اداروں میں سیاسی مداخلت معمول بن چکی ہے ۔ جمہوریہ کے وفاقی ڈھانچے کو روزانہ کچلا جا رہا ہے اور اپوزیشن اقتدار والی ریاستوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کے متکبرانہ اور جابرانہ رویے سے پارلیمنٹ کے کام کاج اور پیداواری صلاحیت میں گراوٹ آرہی ہے ۔ یونیورسٹیوں اور خود مختار اداروں میں مسلسل دراندازی جاری ہے ۔ میڈیا کا بڑا حصہ حکمران جماعت کیلئے پروپگنڈہ کا ذریعہ بن چکا ہے ۔ اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنا کر اختلاف رائے کو دبانا اقتدار میں رہنے والوں کی واحد پالیسی بن چکی ہے ۔ گزشتہ ایک دہائی میں مذہبی بنیاد پرستی کے مذموم ایجنڈے کے ساتھ ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جو سیکولر ہیں ان کو داغدار کیا جا رہا ہے ۔ کمزور طبقات ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، غریب اور اقلیتوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ ان پر مظالم اور وحشیانہ تشدد عام ہو چکا ہے ۔ منی پور 21 مہینوں سے جل رہا ہے ، لیکن اقتدار کی چوٹی پر کوئی بھی احتساب کرنے کو تیار نہیں۔ جب بھی کوئی گھپلہ سامنے آتا ہے تو اسے ملک دشمن قرار دے کر کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ حکومت فرضی قوم پرستی کا غلط استعمال کر رہی ہیں اور نوجوانوں کو ‘قوم پرستی’ اور ‘مذہبی برتری’ کا علمبردار بنا کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہیں۔ وہ انہیں روزگار فراہم کرنے یا مستقبل میں اس کیلئے اہل بنانے کچھ نہیں کررہی ہے ۔