گرمی کی شدت کا انتخابی سرگرمیوں پر بھی اثر ‘ عوام کی دوری

   

رائے دہی سے غیر حاضری سے گریز کی ضرورت ۔ عوام ‘ذمہ داری کا احساس کریں

حیدرآباد۔28اپریل(سیاست نیوز) موسم کی گرمی نے دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں سیاسی گرمی کو مات دینی شروع کردی ہے اور انتخابی مہم پر موسمی گرمی کے اثرات دیکھے جانے لگے ہیں۔ دونوں شہروں میں عوام انتخابی مہم کا حصہ بننے سے گریز کر رہے ہیں اور سیاسی کارکنوں میں بھی جوش کی کمی دیکھی جارہی ہے ۔ تمام جماعتوں کے کارکنوں میں گرمی کی شدت کے سبب انتخابی مہم کا جوش کم ہوا ہے اور سورج کی تمازت سے محفوظ رہنے دن کے اوقات میں گھروں سے نکلنے سے گریز کیا جا رہاہے جبکہ شام میں بھی گرم ہواؤں سے لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ شہری علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ پر امیدواروں اور جماعتوں کا کہناہے کہ انتخابی مہم میں عوام کی شرکت نہ ہونا یا انتخابی مہم پر گرمی کے اثرات کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن اگر 13مئی کو گرمی کی شدت اور سورج کی تمازت کا بہانہ کرکے ووٹرس گھروں سے نکلنے سے گریز کرتے ہیں تو رائے دہی میں گراوٹ ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ تلنگانہ میں 13 مئی کو رائے دہی ہونی ہے اور شہر کا متمول طبقہ بالخصوص وہ طبقہ جو طویل تعطیلات کے ساتھ ہی تفریح کیلئے نکل جاتا ہے وہ ابھی سے 11 ‘ 12 اور 13مئی کو متواتر 3 یوم کی تعطیلات منانے کی تیاریاں کرنے لگے ہیں کیونکہ 11مئی کو دوسرے ہفتہ کی تعطیل کے علاوہ اتوار اور 13 مئی کو رائے دہی ہے۔ شہریوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کوششوں کے متعلق سیاسی قائدین میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے جبکہ 2024 انتخابات کو ملک کی تقدیر بدلنے والے انتخابات قرار دیا جا رہا ہے اگر ووٹرس کے نظریات میں تبدیلی نہیں آتی ہے اور وہ رائے دہی کے ذریعہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے ہیں تو اسے لمحوں کی خطاء قرار دیا جاسکتا ہے اسی لئے 13مئی کو ہونے دہی میں گرمی کی شدت اور سورج کی تمازت کو مات دے کر ووٹنگ میں حصہ لینے کی ضرورت ہے ۔ مختلف تنظیموں سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ انتخابی مہم میں عوام شرکت کریں نہ کریں لیکن رائے دہی کے عمل کا حصہ بنتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں کوتاہی نہ کریں۔3