دس سال میں تقررات نظرانداز، پروفیسر کودنڈا رام کا الزام
حیدرآباد۔/20 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام ایم ایل سی نے کہا کہ گروپ I امتحانات کے بارے میں بی آر ایس کو اظہارخیال کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تلنگانہ میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں بیروزگار نوجوانوں کے مسائل کی یکسوئی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں جب کبھی بھی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس پر مکمل عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ اپنے دور حکومت میں تقررات میں ناکام بی آر ایس قائدین کو کانگریس حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے ریونت ریڈی حکومت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تقررات کا عمل شروع کیا ہے اور دس ماہ میں تقررات میں اہم پیشرفت کی گئی ہے۔ کودنڈا رام نے کہا کہ جی او 55 اور جی او 29 پر عمل آوری کے سلسلہ میں عدالت کیی بعض واضح ہدایات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ جنا سمیتی نے بی آر ایس دور حکومت میں جس طرح نوجوانوں کی تائید کی تھی وہ آج بھی بیروزگار نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے نوجوانوں کے جذبات کا احترام کیا اور تلنگانہ جنا سمیتی کی سفارشات کو قبول کیا ہے۔ کودنڈا رام نے تقررات سے متعلق بی آر ایس قائدین کے بیانات کو مسترد کردیا اور کہا کہ بی آر ایس قائدین امیدواروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس ماہ میں کئی محکمہ جات میں تقررات کئے گئے۔1