جملہ 1391 جائیدادوں میں بی سی ای زمرہ میںصرف 43 کی نشاندہی
روسٹر سسٹم کہاں سے شروع ہو رہا ہے عہدیدار صراحت سے قاصر
مسلم نوجوانوں کو بھاری نقصان کا اندیشہ ۔ فوری توجہ کی ضرورت
حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ بالخصوص ان اداروں کی جن میں تقررات ہونے جا رہے ہیں اور تلنگانہ پبلک سروس کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو واقف کروائیں کہ اگر وہ زون کے اعتبار سے تحفظات کے روسٹر پر عمل آوری کر رہے ہیں اور روسٹر نظام میں جہاں تک تقررات عمل میں لائے جاچکے ہیں ان کے بعد سے روسٹر پر عمل آوری کی جا رہی ہے تو اس روسٹر کے علاوہ زون کی سطح پر روسٹر کی تفصیلات کو منظر عام پر لائیں یا پھر ان تمام اعلامیہ جن کے ذریعہ تقررات کئے جا رہے ہیں ان کے ساتھ یہ تفصیلات جاری کی جائیں تاکہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات نہ رہیں بلکہ وہ حکومت کی نیک نیتی کو مشتبہ تصور کرنے کی بجائے 4 فیصد تحفظات کے معاملہ میں سنجیدگی کو قبول کرسکیں۔ حکومت سے کئی تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کئے گئے اور ان میں مجموعی اعتبار سے بی سی(ای) تحفظات کا جائزہ لیا جائے تو وہ 2.5فیصد یا 3فیصد تک ہی پائے جارہے ہیںجو عوام کے شبہات کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔ گروپ II اعلامیہ کے بعد اب کمشنر انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کے تحت جونیئر لکچررس کے تقررات کے سلسلہ میں جو اعلامیہ جاری کیا گیا ان میں مجموعی اعتبار سے 1392 جائیدادوں پر تقررات کی نشاندہی کی گئی ہے ۔9ڈسمبر 2021کو جاری اس اعلامیہ کے مطابق جونیئر لکچررس کے تقررات کیلئے 6جنوری کو درخواستوں کی وصولی کی آخری تاریخ ہو چکی ہے اس اعلامیہ میں مجموعی اعتبار سے 1392 جائیدادوں پر تقررات کیلئے امتحانات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا اور اس میں ملٹی زون Iمیں 724جائیدادوں پر اور ملٹی زونIIمیں 668 جائیدادوں پر تقررات کئے جا رہے ہیں اور اگر جملہ جائیدادوں کے 4فیصد کا حساب لگایا جائے تو بی سی (ای) زمرہ کیلئے 56 جائیدادوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہئے لیکن اس اعلامیہ میں بی سی (ای) کیلئے محفوظ جائیدادو ں کی جو نشاندہی کی گئی ہے ان کی تعداد 43ہے جو کہ 3فیصد ہوتی ہے۔ اس طرح ایک اور اعلامیہ میں بی سی (ای) زمرہ کی جملہ جائیدادوں میں ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی لیکن حکومت اور سرکاری محکمہ جات کی جانب سے استدلال پیش کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ حکومت سے 4فیصد تحفظات پر عمل آوری کی جار ہی ہے لیکن ملٹی زون میں مخلوعہ و منظورہ جائیدادوں کے اعتبار سے اس تعداد میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ روسٹر پر عمل کے طریقہ کار کو پیش کرکے یہ کہا جا رہاہے کہ سابق میں روسٹر کے اعتبار سے جو تقررات کئے گئے تھے اور جہاں تک روسٹر پہنچا ہے اس کے بعد سے روسٹر شروع کرنے سے یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے لیکن یہ صراحت نہیں کی جا رہی ہے کہ روسٹر کہاں سے شروع کیا جا رہاہے کیونکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر تقررات پہلی مرتبہ ہورہے ہیں اور اگر اس میں روسٹر کے مطابق تقررات کئے جا رہے ہیں تو تلنگانہ کے روسٹر کے اعتبار سے روسٹر کی ابتداء پہلے نمبر سے ہی ہونی چاہئے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو پہلی مرتبہ تحفظات کانگریس کے حکومت میں فراہم کئے گئے جس کی وجہ سے بیشتر مسلمانوں کو جن کا سرکاری ملازمتوں اور تقررات کے عمل سے تعلق نہیں ہے انہیں روسٹر سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہے اسی لئے وہ سرکاری حکام اور حکومت کے استدلال پر خاموشی اختیار کررہے ہیں جبکہ اگر متعلقہ محکمہ جات اور عہدیداروں پر دباؤ ڈالے جانے اور استدلال سے اختلاف کی صورت میں وہ جواب دہی سے قاصر ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں جو روسٹر فراہم کیا جا رہاہے اس کے مطابق وہ عمل کرکے محفوظ جائیدادوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ تحفظات میں اضافہ کی بجائے ان میں تخفیف کے اقدامات ملت اسلامیہ کے نوجوانوں میں احساس کمتری میں اضافہ کا سبب بن سکتے ہیں اسی لئے حکومت اور امت مسلمہ کے ذمہ داروں کو تحفظات میں اضافہ کے علاوہ نوجوانوں کی رہبری کے ساتھ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے تاکہ حکومت یا عہدیداروں کے رویہ میں تبدیلی لائی جاسکے۔ بتایاجاتا ہے کہ تحفظات میں اختیار رویہ کے متعلق انکشافات کے سبب حکومت کے حلقوں میں بے چینی پائی جانے لگی ہے اور وہ اب تک جاری اعلامیہ میں خامیوں کی نشاندہی کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی مناسب و مؤثر جواب نہیں ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کو مطمئن کرسکیں کیونکہ وہ خود اس صورتحال سے پریشان ہیں اور اعلامیہ اور ان میں موجود جائیدادوں میں محض 3 فیصد جائیدادوں کی ہی کس طرح بی سی (ای) زمرہ میں نشاندہی کی جا رہی ہے!م