گریٹ نکوبار میگاپراجکٹ سے قدیم ترین شومپین قبائیلیوں کو خطرہ

   

پورٹ بلیئر / نئی دہلی : ایک بین الاقوامی تاہم دیسی ساختہ قبائیلی تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ کو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ حکومت ہند 75000 کروڑ کے مصارف سے ’’نیو ہانگ کانگ پراجکٹ‘‘ کو گریٹ نکوبار آئی لینڈ پر شروع کرنے والی ہے جس سے شومپین نامی قدیم ترین قبائیلیوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کس طرح اپنے قدیم ترین قبائیلی طبقہ کو ’’نیو ہانگ کانگ پراجکٹ‘‘ کے لیے قربان کرسکتا ہے؟ یہ قبائیلی طبقہ بالکل الگ تھلگ آباد ہے جسے دنیا میں پائی جانے والی شعری ترقی کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں ہے۔ پراجکٹ کی اگر تکمیل عمل میں آئی تو اس سے مذکورہ جزیرہ پر سالانہ دس لاکھ سیاحوں کی آمد ہوگی جس سے صرف نکوبار آئی لینڈ پر انحصار کرنے والے شومپین قبائیلی طبقہ کا وجود خطرہ میں پڑجائے گا۔ اس پراجکٹ کے تحت ایک بڑی بندرگاہ، دفاعی اڈہ، توانائی اسٹیشن اور ایک نیا شہر قائم کیا جائے گا جس میں 6,50,000 افراد کے رہنے کی گنجائش ہوگی۔