گمشدہ محبت کے جوڑے ، 15 فیصد مقدمات معمہ بن کر رہ گئے

   

تلنگانہ میں 5 سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ لاپتہ ہونے کے مقدمات میں 60 فیصد عاشق
10 فیصد بچے اور 10 فیصدبوڑھے بھی لاپتہ ، سی آئی ڈی پولیس 85 فیصد مقدمات کا سراغ لگانے میں کامیاب
حیدرآباد ۔ 30 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : محبت کرنے والے جوڑے ان کی محبت کو گھر کے بڑے بزرگوں کی جانب سے قبول نہ کرنے پر ہر سال ہزاروں جوڑے گھر کی دہلیز پھلانگ رہے ہیں ۔ ان میں نابالغ بھی شامل ہیں ۔ گذشتہ 5 سال کے دوران ریاست بھر میں 5 لاکھ سے زیادہ لاپتہ ہونے کے مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ان میں تقریبا 60 ہزار سے زیادہ مقدمات محبت کرنے والے ہونے کا کرائم ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے ۔ ایسے کیس کا سراغ لگانے والے سی آئی ڈی پولیس عہدیدار بڑے بزرگوں کی موجودگی میں کونسلنگ کررہے ہیں ۔ اگر محبت کرنے والے بالغ ہیں تو انہیں ان کی مرضی پر چھوڑ دیا جارہا ہے ۔ نابالغ ہوں تو والدین کے حوالے کردیا جارہا ہے ۔ 85 فیصد کیس کا پولیس انتہائی مشکل سے سراغ لگا رہی ہے ۔ وہیں 15 فیصد کیس معمہ بنے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ 5 سال کے دوران ریاست بھر میں 1,03,496 افراد لاپتہ ہوئے ۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوئے گھر کے بڑے لوگ ان کی محبت کو قبول نہ کرنے کے ڈر سے گھر سے فرار ہونے والوں کی اکثریت ہے ۔ سی آئی ڈی کی انکوائری میں پتہ چلا ہے کہ ایسے مقدمات کا تناسب 60 فیصد ہے ۔ گذشتہ 5 سال کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد لاپتہ ہوئے تاہم صرف 96,614 مقدمات درج ہوئے ۔ ان میں 97,028 افراد کا سی آئی ڈی سراغ لگاتے ہوئے پکڑ لیا ہے ۔ اس سال نومبر تک اس طرح کے 22,780 افراد لاپتہ ہونے کے مقدمات درج ہوئے ۔ ان میں 19,191 کیسیس کو حل کیا گیا ہے ۔ لاپتہ مقدمات کو حل کرنے میں سی آئی ڈی نے 85 فیصد کامیابی حاصل کی ہے ۔ ماباقی 15 فیصد مقدمات معمہ بنے ہوئے ہیں ۔ لاپتہ افراد میں چند ذہنی امراض میں مبتلا ہیں یا اپنا پتہ بتانے سے بھی قاصر ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چند افراد کی موت ہوجانے سے ان کا سراغ نہیں ملا ہے ۔ مقامی پولیس اسٹیشن کے حدود میں اگر اندرون تین ماہ گمشدہ ہونے والے کیسیس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا تو ایسے مقدمات سی آئی ڈی کو منتقل کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے معاملات کے ساتھ ساتھ ریاست میں خواتین کی حفاظت کرنے والی ویمن ونگ ریاست بھر میں درج گمشدہ کیسوں کو حل کررہی ہے ۔ لاپتہ ہونے والے مقدمات میں 20 فیصد خواتین ہیں ۔ ان سب سے زیادہ تر گھریلو خواتین ہیں اور وہ خاندانی جھگڑوں سے تنگ آکر اپنا گھر چھوڑ رہی ہیں ۔ مزید 10 فیصد 60 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ ہیں اور 10 فیصد بچے ہیں ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق بچے اور بوڑھے لاپتہ ہورہے ہیں ۔۔ 2