گولکنڈہ کے حکمراں کی گنبد رنگین گلیز ٹائیلس اور گچی کے ساتھ تعمیر
تاریخی مقام گنبدان قلی قطب شاہ کی عظمت رفتہ کا پتہ چلایا گیا ہے ۔ اس مقام پر کھوج سے پتہ چلتا ہے کہ مقبرے کو رنگارنگ گلیز ٹائیلس کے ساتھ اینٹوں کا استعمال کرتے ہوئے مزین کیا گیا ہے ۔ سلطان محمد قطب شاہ کی گنبد پر بنائے گئے نقوش شاندار نظر آتے ہیں ۔ قلعہ گولکنڈہ کے سیڑھیوں سے لیکر گنبد تک شاندار مزین کاری کی گئی ہے ۔ اس ٹائیلس کے کام نے اس مقام کی تاریخی اہمیت کو غیرمعمولی طور پر بڑھادیا ہے ۔ ہم محمد قلی قطب شاہ کی گنبد کی تاریخی اہمیت کو جانتے ہیں جس پر رنگے برنگے ٹائیلس بھی لگائے گئے ہیں وہ خوشنما ہیں ۔ لیکن ہم ان ٹائیلس کے ثبوت تلاش نہیں کرسکے ۔ ہماری تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہر چیز آنکھوں کو خیرہ کررہی ہے ۔ آغا خان ٹسٹ برائے ثقافت کے سی ای او رتیش نندا نے کہا کہ گنبدان قلی قطب شاہ کی تعمیر میں فنکاری کا شاندار مظاہرہ ہواہے ۔ محکمہ آرکیالوجی اور میوزیم تلنگانہ کے تعاون سے انہوں نے قطب شاہی علاقہ میں انجام دی گئی قدیم تعمیرات کا جائزہ لیا ۔ برسوں سے یہاں انجام دیئے گئے ٹائیلس کے کاموں کا پتہ نہیں چلایا گیا لیکن اب تحقیق پر پتہ چلا ہے کہ یہاں پر تقریباً 40 ایم ایم کے چونے کی پرت چڑھائی گئی ہے جس کو برسوں سے کسی نے دیکھا نہیں ۔ ٹائیلس رنگ کا پتہ چلایا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ٹائیلس نیلے ، سبز ، سفید ، زرد کے علاوہ سرخ رنگوں سے مزین ہے جو قرون وسطی کے دور میں مقبول تھے ۔ گنبد پر کی گئی نقش نگاری اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ٹائیلس اپنی تاریخی اہمیت رکھتے ہیں ۔ میناروں پر لگائے گئے ٹائیلس بھی شاندار ہیں ۔ یہاں پر مزید کھوج سے پتہ چلا ہے کہ یہ گنبد رنگا رنگ ٹائیلز سے مزین کی گئی تھی ۔ اے کے ٹی سی کے پرشانت بنرجی نے کہا کہ گنبد کی تعمیر میں انٹرلاکنگ نظام کے ساتھ مختلف تعمیری اشیاء کا استعمال کیا گیا جس پر دبیز و گلیز ٹائیلس لگائے گئے ۔ قرون وسطیٰ کے دور میں فن تعمیر کا شاہکار نظر آتا ہے جہاں پر چنے کی گچی سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ گنبدان قطب شاہی کے کئی گنبدوں پر یہی کام نظر آتا ہے ۔ مساجد اور گنبدوں کے ٹائیلس پر روشنی پڑتی ہے تو یہ دوچند ہوجاتی ہیں ۔ حیدرآباد میں دیگر تاریخی مقامات میں سے یہ ایک اہم ہے ۔ بادشاہی عاشور خانہ کی تعمیر 1611 ء میں ہوئی تھی جس کی مغربی دیوار بھی اسی طرح کے ٹائیلس سے مزین ہے ۔ سلطان محمد قطب شاہ کی گنبد کی اونچائی 43 میٹر ہے (تقریباً 14 منزلہ عمارت) ۔ اتنی اونچی عمارت کی تعمیر کام کرنے والوں کیلئے ایک چیالنج سے کم نہ تھا ۔ دن رات کرکے مزدوروں نے گنبد کی تعمیر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے ۔ قطب شاہی حکمرانوں نے گولکنڈہ حیدرآباد پر 1518 ء تا 1687ء کے درمیان حکومت کی تھی ۔ قلعہ گولکنڈہ کی بنیاد پر تعمیر کردہ احاطہ میں ایک قبرستان بھی ہے جہاں ماسواء آخری حکمراں عبدالحسن کے تمام حکمرانوں کو دفن کیا گیا ہے ۔ عبدالحسن کو اورنگ آباد کے قریب خلد آباد میں دفن کیا گیا ۔ حکمرانوں نے اپنی حیات میں ہی سفر آخر کا انتظام کیا تھا اور قبروں کی تعمیر کی ہدایت دی تھی ۔ چھٹویں حکمراں سلطان محمد قطب شاہ نے سب سے کم مدت میں حکومت کی اور ان کا انتقال 1625 ء میں ہوا ۔ اس مقام کو بظاہر ماہرین فن تعمیرات نے مکمل کیا لیکن اس کی نقش و نگاری جوہریوں نے انجام دی ۔ آغا خان ٹرسٹ کے سی ای او رتیش نندا نے مزید کہا کہ اس تاریخی عمارت کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اس کیلئے مزید دو سال درکار ہیں ۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ کی گنبد کی تعمیر کو بہتر بنانے کیلئے انڈیگو کے تعاون سے پور ا کیا جارہا ہے ۔