گنیش وسرجن سے حسین ساگر میں آلودگی میں اضافہ معمولی

   


ما بعد وسرجن آلودگی کی سطح میں بتدریج کمی ۔ ریاستی حکومت کے اقدامات کا مثبت اثر
حیدرآباد 3 اکٹوبر ( سیاست نیو ز ) حیدرآباد کی حسین ساگر جھیل میںجاریہ سال گنیش مورتیوں کے وسرجن سے آلودگی میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا کیونکہ حکومت کی جانب سے مٹی سے مورتیاں بنانے پر زور دیا گیا تھا اور پی او پی کی مورتیوںپر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ کہا گیا یہ کہ مورتیوں کے وسرجن سے قبل اور بعد میں شہر میں اچھی بارش بھی ہوئی جس کے نتیجہ میں آلودگی کم ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جاریہ سال حسین ساگر جھیل میں جملہ 88,299 مورتیوں کا وسرجن کیا گیا تھا ۔ ان میں 42,952 مورتیاں مٹی کی بنائی ہوئی تھیں جبکہ 45,347 مورتیاں پی او پی کی بنی تھیں۔ تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے وضاحت کی کہ جملہ مورتیوں میں نصف تعداد مٹی سے بنی ہوئی تھی ۔ ہر سال بورڈ کی جانب سے گنیش تہوار کے دوران جھیل میں پانی کے معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی مورتیوں کے وسرجن سے قبل ‘ دوران اور بعد میں پانی کے معیار کا جائزہ لیا گیا ۔ پانی کے نمونے چھ مختلف مقامات سے الگ الگ ایام میں حاصل کئے گئے تھے ۔ جوائنٹ چیف ماحولیاتی سائنٹسٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے بموجب چار نمونے مورتیوں کے وسرجن کے دوران حاصل کئے گئے اور وسرجن سے پہلے اور بعد میں ایک ایک نمونہ لیا گیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ حالانکہ گذشتہ مہینے مورتیوں کے وسرجن کی وجہ سے حسین ساگر جھیل میں آلودگی کی سطح میںاضافہ ہوا تھا تاہم یہ اضافی سطح مورتیوں کے ملبہ کی صفائی کے بعد دوبارہ معمول پر آگئی ۔ مورتیوں کے وسرجن کے دوران بھی ڈاٹا سے پتہ چلتا ہے کہ آلودگی میں جو اضافہ ہوا تھا وہ معمولی ہی تھا ۔ کہا گیا ہے کہ مورتیوں کے وسرجن کید وران پانی میں آکسیجن کی سطح کم ہوگئی تھی تاہم بعد میں اس میں بتدریج اضافہ ہوگیا ۔ یہ آکسیجن سطح آبی مخلوق کے زندہ رہنے ضروری ہوتی ہے ۔ کہا گیا کہ حکومت سے مٹی سے مورتیاں بنانے شعور بیدار کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں حسین ساگر جھیل میں آلودگی کی سطح کو کم رکھنے میں مدد ملی ہے ۔