گورنر نے پرجا دربار کے نام پر سیاسی دربار منعقد کیا : ٹی آر ایس

   

ٹی آر ایس گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ نہیں کرے گی ، بیجا مداخلت پر خاموش تماشائی بھی نہیں رہے گی
حیدرآباد ۔ 10 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی کے پی ویویکانند نے گورنر تمیلی سائی سوندرا راجن کی جانب سے راج بھون میں انعقاد کردہ پرجا دربار کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کو سیاسی دربار قرار دیا اور کہا کہ گورنر کے پرجا دربار کی حکومت ہرگز جوابدہ نہیں ہے ۔ ہاں البتہ حکومت عوام کو جوابدہ ہے ۔ ملک بھر میں چیف منسٹر کے سی آر حکومت کی مقبولیت ہے ، جس کو اپوزیشن جماعتیں ہضم نہیں کرپا رہی ہیں ۔ اسمبلی کے احاطہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویویکانند نے کہا کہ ہر پیر کو ریاست کے 33 اضلاع میں عوامی مسائل کی یکسوئی کے لیے پرجا دربار کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ دستوری نظام کا چیف منسٹر کے سی آر احترام کرتے ہیں ۔ ہرکسی کے روئیے کے مطابق انہیں احترام ملتا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی پر گورنر نظام کی آڑ میں سیاست کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی نے استفسار کیا کہ کیا بی جے پی کے زیر اقتدار والی ریاستوں کے گورنرس پرجا دربار کا اہتمام کررہے ہیں ؟ کیا ان ریاستوں کے گورنرس کی جانب سے پرجا دربار کا اہتمام کرنے پر بی جے پی اس کو قبول کرے گی ؟ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی جب گجرات کے چیف منسٹر تھے اس وقت کی گورنر کے پرجا دربار کا انعقاد کرنے پر کیا ہوا تھا معلوم نہیں ہے کیا ؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی میدان سے تعلق رکھنے والوں کو گورنر بنانے پر وہ پرجا دربار کا اہتمام کرتے ہیں ۔ اس لیے غیر سیاسی شخصیتوں کو گورنر نامزد کرنا چاہئے ۔ گجرات کی گورنر کملا نیوال کو عہدے سے ہٹادینے کا نریندر مودی نے اس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو مکتوب روانہ کیا تھا ۔ کے پی ویویکانند نے کہا کہ سال 2014 میں بی جے پی اترپردیش میں اپوزیشن میں ہونے کے باوجود اس ریاست کے گورنر عزیز قریشی کو سیاست کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے عہدے سے بیدخل کردیا گیا تھا ۔ گورنرس بی جے پی کے حامی ہوں تو ٹھیک ہے بصورت دیگر انہیں برداشت نہیں کیا جاتا ۔ بی جے پی کی سرگرمیوں کے باوجود ٹی آر ایس نے کبھی گورنر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا تاہم اگر گورنر کی جانب سے حدود پار کرنے پر خاموش تماشائی بھی نہیں رہیں گے ۔۔ ن