ہولی کی تعطیلات کے بعد سماعت کا امکان، دستور کی دفعہ 32 کے استعمال کی سپریم کورٹ سے درخواست
حیدرآباد۔3 ۔مارچ (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے خلاف ریاستی حکومت کی رٹ پٹیشن پر آج سماعت نہیں ہوئی ۔ سپریم کورٹ کے مقدمات کی فہرست میں یہ رٹ پٹیشن شامل نہیں تھی ، لہذا توقع کی جارہی ہے کہ ہولی کی تعطیلات کے بعد سپریم کورٹ چیف سکریٹری شانتی کماری کی درخواست کی سماعت کرے گا۔ حکومت کی جانب سے کل رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی اور امید تھی کہ آج جمعہ کے دن سماعت ہوگی لیکن مقدمات کی فہرست میں عدم شمولیت کے باعث کے سی آر حکومت کو مایوسی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اسمبلی میں منظورہ 10 مختلف بلز کو منظوری دیئے بغیر گورنر سوندرا راجن نے زیر التواء رکھا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے یہ بل راج بھون میں منظوری کے منتظر ہیں جبکہ حالیہ بجٹ سیشن کے 5 منظورہ بلز بھی اسی قطار میں شامل ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کو بلز کی منظوری کیلئے گورنر کو ہدایت دینے کی درخواست کے ساتھ چیف سکریٹری نے رٹ پٹیشن دائر کی۔ بتایا جاتاہے کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں آج اس معاملہ پر سماعت کی کوشش بھی نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ رجسٹری کی جانب سے طئے شدہ تاریخ کو سماعت سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے کسی بھی اجلاس پر یہ مسئلہ پیش نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ کو کل 4 مارچ سے ہولی کی تعطیلات ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ ہولی کی تعطیلات کے بعد مقدمات کی فہرست میں چیف سکریٹری کی رٹ پٹیشن شامل کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت زیر التواء بلز کی منظوری کے بارے میں فکرمند ہیں لیکن اسے سپریم کورٹ کے موقف کے لئے مزید ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رٹ پٹیشن میں راج بھون کے کلیئرنس کے منتظر 10 بلز کی تفصیلات پیش کی گئی ہے۔ر
بجٹ سیشن میں منظورہ 5 بلز میں سے گورنر نے بجٹ سے متعلق دو بلز کو منظوری دے دی جبکہ 3 بلز کلیئرنس کے منتظر ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلز کی عدم منظوری سے دستوری بحران پیدا ہوسکتا ہے ، لہذا دستور کی دفعہ 32 کے تحت سپریم کورٹ کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گورنر کو ہدایت دینی چاہئے۔ر