حیدرآباد۔/9 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے تاریخی قلعہ گولکنڈہ اور نیا قلعہ تالاب کو نقصان پہنچانے کے خلاف دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس انیل کمار پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست گذار اور گولف کورس کے وکلاء کی سماعت کی۔ درخواست گذار کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ گولف کورس کے قیام سے نہ صرف تالاب بلکہ تاریخی قلعہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت تاریخی قلعہ کے تحفظ کیلئے اقدامات کرسکتی ہے لیکن گولف کورس کے قیام کیلئے قلعہ کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔ قلعہ گولکنڈہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ تاریخی ورثہ کی حیثیت رکھتا ہے اور عوام اس کا تحفظ چاہتے ہیں۔ گولف کورس کے وکیل نے بتایا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے اجازت کے بعد سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔ عدالت نے حکام کو آئندہ سماعت سے قبل گولف کورس سے متعلق تازہ ترین موقف کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔1