گھر میں بخاری شریف پڑھنے کے بے انتہا فیوض و برکات

   

اُم المساکین للبنات گلبرگہ میں درس ختم بخاری شریف، مفتی محمد مستان علی قادری کا خطاب
گلبرگہ 13 اگسٹ (راست) امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاریؒ کا ہر قول وعمل حضور ﷺ کے قول وعمل کا مظہر تھاآپ کو من جانب اللہ وہ تمام فضائل وکمالات عطا ہوئے تھے جو کسی ایک شخص کے اندراس قدر جامعیت کے ساتھ نہیں پائے گئے علم وفہم ،ذکاوت وذہانت، وسعت نظر،قوت حافظہ اور فقہ واجتہاد جیسی اعلیٰ صفات وخصائص کے ساتھ متصف تھے ۔ حضورﷺ کی حدیث کیلئے آپ نے پہلا سفر مکہ کی طرف کیا ، آپ نہایت متوکل اور غذا نہایت کم تھی، ان خیالات کا اظہار ام المساکین للبنات میں جلسہ اختتام بخاری شریف وجلسہ تقسیم اسناد برائے خواتین کے کثیر اجتماع سے (پس پردہ) ڈاکٹر مفتی حافظ محمد مستان علی قادری ناظم اعلیٰ جامعۃ المؤمنات نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کیا۔اس جلسہ کا آغاز قرأت ونعت شریف سے ہوا جبکہ صدارت مفتیہ آفرین سلطانہ صدر معلمہ ام المساکین للبنات نے کی۔ سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر مفتی محمد مستان علی قادری نے کہا کہ حضرت امام بخاری ؒ کو بچپن ہی میں ستر ہزار حدیثیں یاد تھیں بعد میں یہ حال ہوا کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں اور دو لاکھ غیر صحیح حدیثیں یاد ہیں، بخاری شریف حدیث صحیح کا پہلا مجموعہ ہے اور اس کی صحت پر تمام امت کا اتفاق ہے اس کا مرتبہ ومقام اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے جس کو آپ 16 سال کی مدت میں تکمیل فرمائے ،اس تصنیف کا عمل مسجد حرام سے شروع کئے اور ہر حدیث لکھنے سے پہلے غسل کر کے دو رکعت نماز استخارہ پڑھتے اور جب حدیث کی صحت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی قلبی اطمینان ہوجاتا تو اس کو کتاب میں لکھتے تھے۔ حضرت امام بخاریؒ یوں تو بہت سے تصانیف تحریر فرمائے لیکن ان سب میں بخاری شریف کی بہت فضیلتیں برکتیں ہیں جس گھرمیں بخاری شریف کی تلاوت کی جاتی ہے وہ گھر فیوض وبرکات سے مالا مال ہوتا ہے اور ہر مشکل مسئلہ کا حل ہوتا ہے حضرت امام بخاری ؒ کا چہرہ ہمیشہ خوف الٰہی سے زرد اور محبت رسول ﷺ سے روشن رہتا تھا۔مفتی محمد مستان علی نے مزید کہا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث نیت سے اور آخری حدیث اللہ کے ذکر کی فضیلت واہمیت وافادیت سے متعلق ہے۔ ڈاکٹرمفتیہ ناظمہ عزیز مؤمناتی شیخ الفقہ جامعۃ المؤمنات نے حضرت امام احمد رضا خاں بریلویؒ کے عشق رسولؐ پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر ام المساکین للبنات گلبرگہ کے طالبات فاضلہ ، عالمہ ، مولویہ ، قاریات کو اسناد وخلعتیں بدست مہمانان خصوصی عطا کئے گئے ۔دعاوسلام پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔