حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گیان واپی مسجد کے خلاف سازش کی مذمت کی ۔ فورم نے کہا کہ گیان واپی مسجد کا تنازعہ کھڑا کیا جارہا ہے ، اس کے علاوہ قطب مینار ، تاج محل ، جامع مسجد دہلی اور ٹیپو سلطان کی مسجد کے خلاف بھی مہم شروع کی گئی۔ فورم کے ذمہ داروں جناب رحیم الدین انصاری ، مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری ، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری ، مولانا میر قطب الدین علی چشتی ، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مفتی صادق محی الدین ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، جناب ضیاء الدین نیر، جناب منیرالدین احمد مختار اور دوسروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہندوستانی مسلمانوںکو ملک کے دستور ، قانون ، عدلیہ اور جمہوری اداروں پر بھروسہ ہے لیکن ملک کے یہ ادارے کس حد تک قانون کی پاسداری کرتے ہوئے مستحق کو انصاف فراہم کر رہے ہیں، اس پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ ملک میں عبادتگاہوں کے موقف کے بارے میں قانون کے باوجود اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وارانسی کی ایک عدالت میں گیان واپی مسجد کا سروے کرایا اور وضو کے حوض کو بند کرنے احکامات جاری کئے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہے۔ فورم نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ہرگز مشتعل نہ ہوں کیونکہ صاحب اقتدار چاہتے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہوں تاکہ اس بہانے ان کے مکانات اور کاروبار پر بلڈوزر چلایا جاسکے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کی سازشوں کو کامیاب ہونے نہ دیں۔ ر