1991 قانون کے تحت یکسوئی کی ضرورت : اسد اویسی کا رد عمل
حیدرآباد 20 مئی ( سیاست نیوز) صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے سپریم کورٹ کی جانب سے گیان واپی مسجد کے مسئلہ کو اترپردیش کی عدالت کو منتقل کردئے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو امید تھی کہ اس مسئلہ کو 1991 کے قانون کے تحت حل کردیا جاتا ۔ اس قانون کے تحت ملک کی تمام عبادتگاہوں کا موقف وہی برقرار رہے گا جو 1947 میں تھا ۔ اسد الدین اویسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود سپریم کورٹ ماضی میںکہہ چکا ہے کہ 1991 میں عبادتگاہوں کے موقف کی برقراری سے متعلق جو قانون یہ وہ ملک کے دستور کا بنیادی حصہ ہے ۔ جب یہ قانون موجود ہے تو گیان واپی مسجد یا دیگر مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کو اسی قانون کے تحت حل کردیا جاتا ہے ۔ تاہم سپریم کورٹ میں ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ مسئلہ کو ضلع مجسٹریٹ سے رجوع کیا گیا ہے تو انہیں امید ہے کہ اس مسئلہ پر 1991 کے قانون کے مطابق فیصلہ صادر کیا جائے اور اس مسئلہ کی یکسوئی کردی جائے ۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ چونکہ اب آئے دن اس طرح کے تنازعات پیدا کئے جا رہے ہیں اس لئے اس قانون پر عمل کیا جانا چاہئے ۔