گیان واپی مسجد کے بعد متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سنگھ پریوار کے نشانہ پر

   

مندر کی اراضی پر مسجد کی تعمیر، آرکیالوجیکل سروے کا نیا انکشاف
حیدرآباد۔/6 فروری، ( سیاست نیوز) گیان واپی مسجد میں مندر کے آثار پائے جانے سے متعلق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ کا سہارا لیتے ہوئے گیان واپی مسجد کے تہہ خانہ میں پوجا کا آغاز کردیا گیا۔ اب متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کو نشانہ بنانے کی تیاری ہے۔ شاہی عید گاہ مسجد کو کرشن جنم بھومی کا نام دیا جارہا ہے اور بابری مسجد کے بعد کاشی اور متھرا کی دونوں مساجد سنگھ پریوار کے نشانہ پر ہیں۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے تازہ ترین انکشاف کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ متھرا کی مسجد کی تعمیر مندر کو منہدم کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے 1920 میں برطانوی حکومت کے دستاویزات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کی تعمیر مندر کی اراضی پر کی گئی۔ یہ انکشاف ایسے وقت منظر عام پر آیا جب ہندو فریق کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ 13.37 ایکر مندر کی اراضی پر مسجد تعمیر کی گئی اور یہ اراضی کاترا کیشودیو مندر کی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے کے تازہ ترین انکشاف سے گیان واپی مسجد کے بعد متھرا کی شاہی عید گاہ مسجد پر سنگھ پریوار کی دعویداری میں تیزی پیدا ہوسکتی ہے۔ دونوں مساجد کے بارے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ مقامی عدالتوں کے فیصلوں کا سہارا لیتے ہوئے سنگھ پریوار وارانسی اور متھرا کی تاریخی مساجد کو حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ بابری مسجد کے معاملہ میں بھی آرکیالوجیکل سروے نے ہندو فریق کی مدد کی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کے دعویٰ کی بنیاد پر ہندو فریق کرشن جنم بھومی کے دعویٰ کی تکمیل کیلئے شاہی عید گاہ مسجد کے بارے میں کیا کارروائی کرے گا۔1