گیتا کے اشلوک کا غلط ترجمہ پوسٹ کرنے پر چیف منسٹر آسام نے معافی مانگی

   

گوہاٹی: اپنے متنازعہ بیانات کیلئے ہمیشہ سرخیوں میں رہنے والے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس بار وہ اپنی غلطی کیلئے معافی مانگنے کی وجہ سے سرخی بن رہے ہیں۔ دراصل ہیمنت بسوا سرما اپنے ایک پوسٹ کو لے کر ناقدین کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ تنازعہ زیادہ بڑھنے کے بعد انھوں نے معافی مانگ لی ہے۔معاملہ بھگوت گیتا کے ایک اشلوک سے جڑا ہے۔حال ہی میں ہیمنت بسوا سرما نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے گیتا کا ایک اشلوک پوسٹ کیا تھا جس کا غلط ترجمہ پیش کر دیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے وہ تنازعہ کا شکار ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ اس تعلق سے اب وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے سوشل میڈیا پر ہی ایک پوسٹ کر کے معافی مانگی ہے۔تازہ پوسٹ میں ہیمنت بسوا سرما نے لکھا ہے کہ میںمعمول کے مطابق بھگوت گیتا کا ایک اشلوک ہر صبح اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کرتا ہوں۔ ابھی تک میں 668 اشلوک پوسٹ کرچکاہوں۔حال ہی میں میری ٹیم کے ایک رکن نے بھگوت گیتا کے صفحہ 18 کے اشلوک 44 کا غلط ترجمہ کر دیا تھا۔ جیسے ہی میں نے اسے نوٹس کیا تو میں نے پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا۔ اگر میرے ڈیلیٹ پوسٹ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں۔قابل ذکر ہے کہ ہیمنت بسوا سرما نے اشلوک کے غلط ترجمہ والا پوسٹ ڈیلیٹ ضرور کر دیا تھا، لیکن اس پر سیاسی تنازعہ شروع ہو چکا تھا۔ اپوزیشن قائدین نے آسام کے چیف منسٹر پر نسلی تفریق کو فروغ دینے کا الزام لگایا تھا۔