گینگ ریپ کی شکار کے لواحقین کی انصاف کیلئے دوڑ دھوپ

   

مختلف عوامی نمائندوں سے ملاقات، پولیس کی کارکردگی اور بدتمیزی کی شکایت
گنا: مدھیہ پردیش کے گنا ضلع میں اسکول کی 15 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے واقعے کے بعد متاثرہ کے والد نے عوامی نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔گنا ضلع کے وزیر انچارج پردیومن سنگھ تومر نے کل ضلع اسپتال میں متاثرہ کے والد سے ملاقات کی۔ اس دوران متاثرہ کے والد نے انچارج وزیر سے پولیس کی کارکردگی اور بدتمیزی کی شکایت کی۔ جس پر انچارج وزیر نے موقع پر موجود پولیس سپرنٹنڈنٹ پنکج سریواستو سے شکایت کنندہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا۔دو دن قبل راج گڑھ کے ایم پی روڈمل نگر نے بھی متاثرہ کے والد اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران بھی متاثرہ کے والد نے الزام لگایا تھا کہ وہ کافی عرصے سے شہر کی اصلاح کی کوشش کر رہے تھے ۔ وہ چنچوڈا میں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک حالیہ واقعہ کے نتیجے میں ہوا ہے ۔متاثرہ کے والد کا دعویٰ ہے کہ تھانہ انچارج جو کہ چنچوڈا میں واقعہ کے دوران تعینات تھا، بدعنوانی میں ملوث تھا۔ اس نے ایسے بہت سے ملزموں کو رہا بھی کیا، جنہیں عوام نے رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ متاثرہ کے والد نے ایم پی شری نگر سے قصوروار پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔لڑکی فی الحال ضلع اسپتال میں زیر علاج ہے ۔ جمعہ کو واقعہ کے بعد متاثرہ کو رات 10 بجے کے قریب ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ فی الحال اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔