30 لاکھ روپئے جرمانہ ، درخواست گزار کو 25 لاکھ ادا کرنے کی ہدایت، ہندوستانی شہریت کا دعویٰ مسترد
حیدرآباد ۔9۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے ویملواڑہ کے سابق رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کی ہندوستانی شہریت سے متعلق درخواست کو مسترد کردیا ۔ عدالت نے گمراہ کن دستاویزات پیش کرنے پر سابق رکن اسمبلی پر 30 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ گزشتہ 15 برسوں سے ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کیلئے سی ایچ رمیش نے عدالت میں گمراہ کن دستاویزات داخل کئے تھے جس پر ہائی کورٹ نے برہمی ظاہر کی۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں واضح کردیا کہ سی ایچ رمیش ہندوستانی شہری نہیں ہے بلکہ وہ جرمنی کی شہریت رکھتے ہیں۔ جرمنی کی شہریت رکھتے ہوئے انہوں نے اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ عدالت کو گزشتہ 15 برسوں سے گمراہ کرنے پر 30 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ۔ ہائی کورٹ نے ایک ماہ میں جرمانہ کی رقم ادا کرنے کی ہدایت دی۔ سی ایچ رمیش کو 25 لاکھ روپئے ویملواڑہ کے موجودہ رکن اسمبلی اور گورنمنٹ وہپ اے سرینواس کو ادا کرنے ہوں گے جنہوں نے ان کے اسمبلی کے لئے انتخاب کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔ عدالت نے پانچ لاکھ روپئے لیگل سرویسز اتھاریٹی میں ادا کرنے کی ہدایت دی۔ کانگریس امیدوار کے طور پر اے سرینواس کو ویملواڑہ میں شکست ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے رمیش کی شہریت کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔ گزشتہ 15 برسوں سے یہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواء تھا۔ 2009 اسمبلی انتخابات میں جعلی دستاویزات پیش کرتے ہوئے سی ایچ رمیش نے ویملواڑہ اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ واضح رہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے ہائی کورٹ کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ سی ایچ رمیش جرمنی کے شہری ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ رمیش کونسے پاسپورٹ پر بیرونی ممالک کا سفر کر رہے ہیں۔ رمیش کے وکیل نے بتایا کہ جرمنی کے پاسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے عدالت نے ہندوستانی پاسپورٹ کے بارے میں سوال کیا جس پر بتایا گیا کہ ان کے پاس ہندوستانی پاسپورٹ نہیں ہے جس پر ہائی کورٹ نے رمیش کی درخواست کو مسترد کردیا اور جرمانہ عائد کیا ۔ سی ایچ رمیش کے والد آنجہانی سی ایچ راجیشور راؤ سی پی آئی کے سرگرم قائد تھے اور اسمبلی میں ویملواڑہ کی نمائندگی کرچکے ہیں ۔ 1