ہاسپٹلس پر اسرائیلی حملوں کی جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات ہو: ایمنسٹی

   

نیویارک : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے چہارشنبہ کے روز کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایمبولینسوں، طبی عملے اور صحت کی سہولیات پر اسرائیلی حملوں کی جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات ہونی چاہیے۔اس وقت فریقین کے درمیان جنگ بندی جاری ہے۔ تنازعہ کے دوران اسرائیلی فوج نے الزام لگایا تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ سے منسلک اسلامی صحت کمیٹی کی ایمبولینسوں کو مزاحمت کاروں اور ہتھیاروں کی نقل و حمل کیلئے استعمال کیا گیا۔ گروپ نے ان الزامات کی تردید کی۔ایمنسٹی کے مطابق لبنان میں جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے صحت کی سہولیات، ایمبولینسوں اور کارکنان پر بار بار ہونے والے غیر قانونی حملوں کی جنگی جرائم کے طور پر تفتیش ہونی چاہیے کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان مقامات کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ایمنسٹی نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو روم کے قانون کے تحت لبنانی سرزمین پر ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور ان پر مقدمہ چلانے کا دائرہ اختیار فراہم کرے اور متأثرین کے علاج کا حق یقینی بنائے۔ ڈسمبر میں لبنان کے اس وقت کے وزیرِ صحت فراس ابیاد نے کہا تھا کہ دشمنی کے دوران ہسپتالوں پر 67 حملے ہوئے۔ ان میں 40 ہسپتالوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا جن میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے والی تنظیموں پر 238 حملے ہوئے جن میں سے 206 ہلاکتیں ہوئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فائر ٹرک اور ایمبولینس سمیت 256 ایمرجنسی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایمنسٹی نے کہا کہ اس نے گذشتہ سال 3 سے 9 اکتوبر تک بیروت اور جنوبی لبنان میں صحت کی سہولیات اور گاڑیوں پر اسرائیلی حملوں کی تحقیقات کیں جن میں 19 کارکنان ہلاک اور دیگر 11 زخمی ہوئے اور متعدد ایمبولینسز اور دو طبی سہولیات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ایسے شواہد نہیں ملے کہ حملوں کے وقت تنصیبات یا گاڑیاں فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہی تھیں۔ حقوق گروپ نے کہا کہ اس نے حاصل کردہ معلومات کے ساتھ نومبر میں اسرائیلی فوج کو خط لکھا لیکن اشاعت کے وقت تک اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔