چنڈی گڑھ :کانگریس جنرل سکریٹری اور سرسا کی رکن پارلیمنٹ کماری سیلجا نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر نایب سنگھ سینی حکومت ہریانہ اسکل ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے تحت ملازمین کو برطرف نہ کرنے کے وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور اس کے بجائے نئے ملازمین کی تقرری کر رہی ہے ۔ اس کیلئے پہلے سے برسرکار ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے ۔کماری سیلجا نے میڈیا کیلئے جاری ایک بیان میں کہا کہ دو ماہ قبل سینی حکومت نے ہریانہ اسمبلی میں جاب گارنٹی بل پاس کرایا تھا، جس سے ہریانہ میں اسکل ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے تحت برسرکار ملازمین کو مبینہ طور پر بڑا تحفہ دیا گیا تھا۔ مسٹر سینی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایک لاکھ 20 ہزار نوجوانوں سے کیا گیا وعدہ پورا کیا ہے ۔ اس وقت بی جے پی کے تمام لیڈروں نے کہا کہ پہلے اگر ٹھیکیداروں کے ذریعے بھرتیاں ہوتی تھیں تو نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا تھا، اگر ٹھیکیدار کو تبدیل کیا جاتا تو ان کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جاتا، اب ایسا نہیں ہوگا، لیکن اب حکومت ریٹائرڈ ملازمین کو تقرری دینے نئی بھرتیاں کر رہی ہے ، پہلے سے ایچ کے آر این کے تحت رکھے گئے ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے ہٹایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک ہی جھٹکے میں ہزاروں نوجوانوں کو ملازمتوں سے نکال کر سڑکوں پر لا کر اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے ، کون جانے کتنے خاندانوں کو خوراک کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، کون جانتا ہے کہ کتنے ملازمین کے بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی۔سرسا ایم پی نے کہا کہ ایچ کے آر این میں 37404 یعنی 28 فیصد ملازمین درج فہرست ذات سے ہیں اور 41376 ملازمین یعنی 32 فیصد پسماندہ طبقے سے ہیں۔ لیکن حکومت سے وعدوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔کماری سیلجا کے مطابق، نروانہ، چرخی دادری، روہتک سمیت کئی اضلاع میں کمپیوٹر آپریٹر، چوکیدار اور دیگر عہدوں پر برسرکار ملازمین کو بغیر اطلاع کے برطرف کر دیا گیا ۔ یہ ملازمین انصاف کی امید میں دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں لیکن افسران حتیٰ کہ بی جے پی ایم ایل اے اور وزیر بھی ان ملازمین کی کوئی شنوائی نہیں کررہے ہیں اور نہ حکومت کے سامنے ان ملازمین کی وکالت کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ملازمین کے نام بی پی ایل کی فہرست سے اس وقت نکالے گئے جب انہیں ایچ کے آر این کے تحت ملازمتیں ملیں۔اگر وہ کہیں اور جاب مانگنے جاتے ہیں تو انہیں وہاں بھی نہیں ملے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے کسی ملازم کو برطرف نہ کرے اور نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو ان آسامیوں پر تعینات کیا جائے جو تاحال خالی ہیں۔