ہریش راؤ آج اسمبلی میں تلنگانہ بجٹ پیش کریں گے

   

کابینہ کی منظوری، فلاحی اسکیمات کیلئے زائد فنڈز کا امکان
حیدرآباد۔/5 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی کابینہ نے ریاستی بجٹ برائے مالیاتی سال2023-24 کو منظوری دے دی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں کابینی اجلاس آج صبح پرگتی بھون میں منعقد ہوا جس میں ریاستی بجٹ پر غور وخوص کے بعد اسے منظوری دی گئی۔ وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ کل 6 فروری کو صبح 10:30 بجے اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ کابینی اجلاس کے بعد چیف منسٹر ناندیڑ میں بی آر ایس کے جلسہ عام میں شرکت کیلئے روانہ ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کا بجٹ 2.5 لاکھ کروڑ کا ہوسکتا ہے جس میں فلاحی اسکیمات کیلئے زیادہ رقومات مختص کی جاسکتی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے سی آر نے جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فلاحی اسکیمات کو ترجیح دینے کی عہدیداروں کو ہدایت دی۔ مالیاتی سال 2022-23 میں 2.4 لاکھ کروڑ بجٹ پیش کیا گیا تھا جو 2021-22 کے 2 لاکھ کروڑ سے 22 فیصد زیادہ تھا۔ 2021-22 میں بجٹ کا جملہ خرچ 2.31 لاکھ کروڑ درج کیا گیا جبکہ 2020-21 میں 1.8 لاکھ کروڑ اور 2019-20 میں 1.4 لاکھ کروڑ خرچ کئے گئے تھے۔ تلنگانہ میں نئے میڈیکل کالجس کے قیام، ویمنس یونیورسٹی کیلئے بجٹ مختص کیا جاسکتا ہے۔ آسرا پنشن کی اہلیت کی عمر 65 سال سے گھٹاکر 57 سال کردی گئی جس کے نتیجہ میں پنشنرس کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ 6 فروری کو بجٹ کی پیشکشی کے بعد 7 فروری کو اسمبلی کو تعطیل رہے گی۔8 فروری کو بجٹ پر مباحث ہوں گے اور اسی دن وزیر فینانس ہریش راؤ جواب دیں گے۔ 9 ، 10 اور 11 فروری کو مطالبات زر پر مباحث ہوں گے۔ 12 فروری اتوار کو اسمبلی میں تصرف بل پیش کیا جائے گا اور اسی دن بحث اور منظوری کے بعد بجٹ اجلاس اختتام کو پہنچے گا۔ر