ہریش راؤ اور ریاستی وزراء کے درمیان اسمبلی میں نوک جھونک

   

بھٹی وکرامارکا، وینکٹ ریڈی اور سریدھر بابو نے مداخلت کی، اراضیات کی فروخت کے مسئلہ پر اختلاف رائے
حیدرآباد 21 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بی آر ایس کے رکن ہریش راؤ کی تقریر کے دوران ریاستی وزراء اور کانگریس ارکان مسلسل مداخلت کرتے ہوئے حکومت پر اُن کی تنقیدوں کا جواب دینے کی کوشش کررہے تھے۔ ہریش راؤ نے اسمبلی انتخابات کے وقت عوام سے کئے گئے وعدوں کو دہراتے ہوئے اُن کی تکمیل کے بارے میں سوال کیا تو اُس وقت بی آر ایس کے ارکان نے شرم شرم کے نعرے لگاتے ہوئے ہریش راؤ کے موقف کی تائید کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے مداخلت کرتے ہوئے بی آر ایس ارکان کی نعرہ بازی پر اعتراض کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہریش راؤ گزشتہ حکومت میں اُمور مقننہ کے وزیر رہ چکے ہیں لہذا وہ اسمبلی کے قواعد سے اچھی طرح واقف ہیں۔ سریدھر بابو نے ہریش راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ارکان کو اسمبلی قواعد کی پابندی کا مشورہ دیں۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ وہ ہریش راؤ کے سوالات کا تفصیلی جواب دینے کے لئے تیار ہیں لیکن ہریش راؤ کو اسپیکر اسمبلی سے بحث و تکرار کا رویہ ترک کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ جگدیش ریڈی نے اِسی طرح کی حرکت کی تھی اور ہریش راؤ بھی اسپیکر کے اختیارات کو چیلنج کررہے ہیں۔ ہریش راؤ کی جانب سے استعمال کئے گئے بعض الفاظ پر ریاستی وزراء نے اعتراض کرتے ہوئے ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر پرساد کمار نے ہریش راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال سے گریز کریں اور قائد ایوان کی عدم موجودگی پر اُن کے بارے میں تبصرہ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہریش راؤ نے اسپیکر سے کہاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایوان میں بی آر ایس ارکان کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کئے تھے لیکن اُس وقت اسپیکر نے اُنھیں نہیں روکا۔ ہریش راؤ نے جب ریاست کے کمزور مالی موقف کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے اراضیات کے فروخت کی منصوبہ بندی کا حوالہ دیا تو وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے مداخلت کی اور کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ کی اراضیات کو بی آر ایس نے کمیشن کے لالچ میں فروخت کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی صفر رہی اور جو کچھ بھی ترقی ہوئی ہے وہ کانگریس دور حکومت کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ میں کمیشن حاصل کرنے کے لئے 7300 کروڑ کے ٹنڈرس خانگی کمپنی کے حوالے کئے گئے۔ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت میں شراب کی دوکانوں کے ٹنڈرس مدت ختم ہونے سے 3 ماہ قبل ہی جاری کئے گئے جس کے لئے بھاری کمیشن حاصل کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اراضیات کے بارے میں بی آر ایس کو اظہار خیال کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ کوکاپیٹ کی اراضیات کے ہراج سے ہر کوئی واقف ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہریش راؤ کے پیچھے دراصل اور بھی لوگ ہیں جو اراضی معاملات میں ملوث رہے۔ 1